جے آئی ٹی کا فیصلہ خلاف آیا تو وزیراعظم مستعفی ہو جائیں گے: مصدق ملک

اسلام آباد: وزیراعظم محمد نواز شریف کے ترجمان مصدق ملک نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے ججز نے واضح کردیا کہ ابھی کیس میں مزید تفتیش کی گنجائش موجود ہے۔ لہذا مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) ان ثبوتوں کی تصدیق کرےگی جو عدالت میں پیش کیے گئے۔ ایک انٹرویو میں مصدق ملک نے کہا عدالت نے جو فیصلہ دیا وزیراعظم بھی شروع دن سے یہی بات کررہے تھے اور اب جبکہ پانامہ لیکس کا معاملے جے آئی ٹی کے سامنے ہے تو ہم نے تمام دستاویزات جمع کروادی ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں۔انھوں نے کہا سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے اسی لیے عدالت نے 60 روز کی مہلت دی ہے جس کے دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ہر پہلو سے جائزہ لے گی۔

انہوں نے کہا اگر جے آئی ٹی نے ہمارے خلاف فیصلہ دیا تو وزیراعظم خود مستعفی ہوجائیں گے تاہم اگر ہمارے حق میں فیصلہ ہوا تو وہ اپنے عہدے پر قائم رہیں گے۔ایک سوال پر مصدق ملک نے کہا کہ وہ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی جماعت اس معاملے میں عدالت کو قائل نہ کرسکی اور جو ریمارکس جسٹس عظمت سعید نے دیئے وہ ان سے 100 فیصد اتفاق کرتے ہیں اسی لیے عدالت نے معاملے کو جے آئی ٹی کے سپرد کیا تاکہ حقیقت سامنے آئے۔

یہ بھی پڑھیں

مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے قتل عام کیلیے آرایس ایس کےغنڈے بھیجےجارہے ہیں،وزیراعظم

مقبوضہ وادی میں مسلمانوں کے قتل عام کیلیے آرایس ایس کےغنڈے بھیجےجارہے ہیں،وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دنیا کو خبردار کرتے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے