انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس، بائیومیٹرک مشین کے استعمال جزویات طے، الیکشن کمیشن سے 3 لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا تخمینہ بھی طلب

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی نے بائیو میٹرک مشین کے استعمال کی جزویات طے کر لی ہیں اور الیکشن کمیشن سے 3 لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا تخمینہ طلب کر لیا ہے ۔ 
تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر زاہد حامد کی زیر صدارت انتخابی اصلاحات کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں خواتین کی تصاویر پر مشتمل ووٹر فہرستیں امیدواروں کو نہ دینے کی سفارش کی گئی جبکہ ووٹر فہرستوں میں مردوں کی تصاویر کے بارے میں حتمی فیصلہ نہ کیا جا سکا۔ زاہد حامد کا کہنا تھا کہ ریٹرننگ افسر کے پاس مردوں اور خواتین کی تصاویر پر مشتمل ووٹر فہرستیں ہوں گی جبکہ امیدواروں کو دی جانے والی ووٹر فہرستوں میں مردوں کی تصاویر شامل کرنے فیصلہ آئندہ اجلاس میں کیا جائے گا۔ 
ذرائع کے مطابق کمیٹی نے الیکشن کمیشن سے تین لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا تخمینہ بھی طلب کر لیا ہے اور زاہد حامد کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن آئندہ ہفتے 400 الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کی خریداری کا ٹینڈر جاری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین اور بائیو میٹرک مشین کا تجربہ ستمبر کے بعد ضمنی الیکشن میں کیا جائے گا جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کی ووٹنگ سے متعلق بین الاقوامی ماہر کی رپورٹ ایک ہفتے تک مل جائے گی جس کے بعد ان سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

پاکستان، افغانستان میں ہونے والے حالیہ دہشت گردی بے بنیاد الزامات مسترد

اسلام آباد: این ڈی ایس کی جانب سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے