امریکہ افغانستان میں قیام امن میں پاکستان کے قومی مفاد کو بھی مقدم رکھے، اسحاق ڈار

واشنگٹن: وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے قومی مفاد کو بھی مقدم رکھا جانا چاہئیے۔ ڈان لیکس کمیٹی نے طارق فاطمی کو ہٹانے کی سفارش نہیں کی۔ ان کی تبدیلی محض انتظامی فیصلہ ہوگی۔ بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور نہیں، پاناما کیس پر جے آئی ٹی کی تشکیل قانون کے مطابق ہوگی۔ نائن الیون پر سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا۔ ”امریکا کو بتا دیا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں پاکستان کے قومی مفاد کو بھی مقدم رکھا جائے“۔

تفصیلات کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر مک ماسٹر سے ایک گھنٹہ تک جاری رہنے والی ملاقات میں انکا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی سر زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا تاہم کسی اور ملک کی زمین بھی پاکستان کیخلاف استعمال نہیں ہونی چاہئیے ۔وزارت خزانہ کا جے آئی ٹی کی تشکیل میں کوئی عمل دخل نہیںتاہم رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کیا جائے گا۔ راحیل شریف کی اتحادی فوج میں شمولیت پر کوئی ابہام نہیں۔

اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ امریکا سے تعلقات میں تعطل مفاد میں نہیں تاہم اسے وسعت دینا چاہتے ہیں۔ وزیر خزانہ نے واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاناما لیکس جے آئی ٹی میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں۔ سٹیٹ بینک اور ایس ای سی پی با اختیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈان لیکس کمیٹی نے طارق فاطمی کو ہٹانے کی سفارش نہیں کی۔ ان کی تبدیلی محض انتظامی فیصلہ ہو گی تاہم حکومت سے پہلے رپورٹ کیسے لیک ہوئی؟ اس پر انکوائری ہونی چاہیے۔ توانائی کے منصوبے چلتے رہیں گے، نئے بجٹ میں نئے ٹیکس لگانے کی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

امریکہ اور چین کے تجارتی مذاکرات ناکام

چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ اور چین کے تجارتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے