سندھ میں نفرت کی وہ شمع جلائی جارہی ہے جس کو شاید کبھی بجھایا نہیں جاسکے گا

سندھ میں نفرت کی وہ شمع جلائی جارہی ہے جس کو شاید کبھی بجھایا نہیں جاسکے گا

کراچی: یہ ملک کی سلامتی کا مسئلہ ہے، سندھ میں نسلی بنیادوں پر ہم نے تباہی اور بربادی ہوتے دیکھی ہے، مجھے ڈر ہے کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت کراچی کو نفرت کی آگ میں دھکیلنا چاہتی ہے

کراچی میں لاکھوں کی تعداد میں مہاجر رہتے ہیں، ہم نے سب کو آپس میں جوڑا ہے، ہم نے بند کمروں کی سیاست نہیں کی ہے، ہمیشہ کہا ہے کہ یہ سندھی ہمارے بھائی ہیں کراچی کے چھ ضلعوں کو ختم کیا جائے، کراچی میٹروپولیٹن سٹی کو بحال کیا جائے پی ایس پی کل کراچی پریس کلب پر بھرپور عوامی طاقت کا مظاہرہ کرے گی۔
امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں ضلع (کیماڑی) کے قیام اور اضلاع کی تعداد میں اضافے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ ایک اور ضلع کے اضافے کا کراچی کی تعمیر و ترقی سے کوئی تعلق نہیں ہے،جب بھی بلدیاتی انتخابات آتے ہیں پیپلز پارٹی اسی طرح کے گیم کرتی ہے جس کے پیچھے صرف پوائنٹ اسکورنگ اور مفادات کا حصول ہوتا ہے،اگر کراچی کی تقسیم کا کوئی فائدہ ہورہا ہوتا تو پہلے سے 6اضلاع موجود ہیں ان کو 7کردینے سے کیا فرق پڑے گا۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ اصل بات کراچی کی تعمیر وترقی کے لیے نیت اور خواہش کا ہونا ہے ورنہ پیپلز پارٹی تو ایک طویل عرصے سے سندھ پر حکمران ہے اور کراچی آج جس بدحالی کا شکار ہے یہ سنگین صورتحال پہلے نہیں تھی، آج ملک کا سب سے بڑا شہر جن مسائل اور حالات سے دوچار ہے یہ سندھ پر حکمران رہنے والوں اور اس حکمرانی میں شریک رہنے والوں کی وجہ سے ہی ہے۔
کنو ینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبو ل صدیقی نے کہا کہ جب ایم کیو ایم پاکستان انتہا ئی نامساعد حالات سے تو میئر کر اچی نے جیل سے آکر عہد ہ کا حلف اٹھا یا اور دوبا رہ جیل چلے گئے ایم کیو ایم پاکستان کا نا م صفحہ ہستی سے مٹا نے کی باتیں کی جانے لگی اس کام کیلیے پوری ریاستی طاقت لگادی گئی
اس کے با وجو د آپ لو گو ں کی یہا ں مو جو دگی اس کی با ت کا ثبو ت ہے کہ ایم کیو ایم مشکلا ت کے پہاڑ عبور کر نے کی صلا حیت رکھتی ہے۔
پی آئی بی اسٹیڈیم میں بلد یا تی نما ئندوں کے اعزاز میں دیے گئے الوادعی عشائیہ سے خطاب کر تے ہو ئے کیا۔ خالد مقبول نے کہا کہ پاکستان پیپلز پا رٹی نے آج سے 50بر س پہلے ہی سندھ کو تقسیم کر دیا تھا جب یہ نعرہ لگا یا گیا کہ ادھر تم ادھر ہم کہہ کر پاکستان کو دولخت کر دیا گیا ہم ہندوستان سے اس لیے واپس آئے کہ ہند و مسلمان ساتھ نہیں رہے سکتے تھے اور ہمیں ایک آپشن دیا گیا تھا جس کو منتخب کر کے ہم پاکستان آئے اس طرح گز شتہ 50سالوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ ہم یہا ں بھی آپ کے ساتھ نہیں رہ سکتے اور ہم اپنا صوبہ بنائیں گے اگر آج جو لو گ سندھ کی تقسیم کیخلاف ہیں اور صوبہ کیخلا ف ہیں وہ اصل میں غدار ہیں کیا صوبوں کے قیام کی شق آئین میں نہیں ہے؟

یہ بھی پڑھیں

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

ضلع مٹیاری کے 2 کالجز کے 8 اسٹاف ممبران میں کرونا کی تشخیص

کراچی: وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے