پنو عاقل میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد قتل

پنو عاقل میں ایک ہی خاندان کے 11 افراد قتل

پنوعاقل: پولیس کی جانب سے دائر کردہ ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے ’چاقو سے گلے کاٹ کر‘ علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا

یہ واقعہ گذشتہ روز پنو عاقل کے گاؤں محمد حسن انڈہڑ میں پیش آیا جہاں ایک ہی خاندان کے 11 افراد کے گلے کاٹ کر انھیں قتل کیا گیا

اس پر پولیس نے اسی خاندان کے پانچ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ پولیس کو شبہ ہے کہ یہ واردات خاندان کے سربراہ نے اپنے بیٹوں کی مدد سے کی ہے۔
ابتدائی تفتیش کے دوران اپنے بیان میں مرکزی ملزم نے دعویٰ کیا کہ بھائیوں سے انبن اور ان کے صدمے کی وجہ سے انھوں نے اپنی بیوی اور بیٹیوں کے گلے کاٹے ہیں۔
پولیس کی جانب سے کاٹی گئی اس ایف آئی آر میں فریادی اور داماد محمود نے موقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے بہنوئی حبیب اللہ کے گھر آئے تھے۔ ان کی بہن نے بتایا کہ ان کے سسر عبدالوہاب اور شوہر حبیب اللہ گھریلو معاملات کی وجہ سے ناراض ہیں اور انھوں نے ’ہمیں مارنے کی بھی دہمکیاں دی ہیں۔‘
’رات کو ہم کھانا کھا کر سوگئے۔ ہمارے ساتھ ملزم عبدالوہاب اور حبیب بھی سوگئے لیکن ان کا رویہ ٹھیک نہیں تھا۔ رات کو 12 بج کر پانچ منٹ پر کسی آواز پر میں، قمرالدین اور سیف الدین جاگ گئے۔ گھر کے اندر بلب کی روشنی میں دیکھا کہ ملزم وہاب، کلیم اللہ جن کے ہاتھوں میں چاقو تھے جبکہ محمد اقبال اور حبیب کے ہاتھوں میں پستول تھے۔
انھوں نے ہتھیاروں کا رُخ ہماری طرف کر کے کہا کہ آج ہم اپنے گھر والوں کو عبرت ناک سزا دیں گے۔ تم لوگوں نے کوئی آواز نکالی تو تمھارا بھی یہ ہی حشر ہوگا۔‘
فریادی کے مطابق اسلحے کے خوف کی وجہ سے وہ خاموش رہے، جس کے بعد ’ملزم وہاب اللہ اور دیگر نے گھاٹوں پر سوئی خواتین اور بچوں کے گلے کاٹے، اس دوران ان کے جسم تڑپ رہے تھے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد ملزم فرار ہوگئے۔ ’ہم نے خون خون کہہ کر چیخیں ماریں اور پڑوس کے لوگ جمع ہوگئے اور پولیس بھی پہنچ گئی۔‘
مقتولین کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر گلے کاٹے گئے
ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان نے چاقو سے گلے کاٹ کر علاقے میں خوف و ہراس پھیلایا جبکہ معصوم اسد کو کنپٹی میں چاقو مار کر ہلاک کیا گیا۔
بتایا کہ مقتولین کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر ان کے گلے کاٹے گئے، وہ چِلّا رہے تھے کہ ہم بے قصور ہیں لیکن انھوں نے کسی کی بھی بات نہیں سنی۔
سکھر پولیس نے مرکزی ملزم وہاب انڈہڑ کو چاروں بیٹوں سمیت گرفتار کر لیا ہے اور ابتدائی تفتیش میں اپنے بیان میں ملزم نے کہا کہ بھائیوں سے انبن اور ان کے صدمے کی وجہ سے انھوں نے اپنی بیوی اور بیٹیوں کے گلے کاٹے ہیں۔
وہاب اللہ کے بیٹے نے اپنے بیان میں کہا کہ زمین کے معاملے پر گھر والوں کو قتل کر کے مخالفین کو پھنسانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
جبکہ کلیم اللہ نے دعوی کیا ہے کہ بھابھی اور دو بچوں کو اس نے قتل کیا جبکہ اس کی والدہ، چھوٹی بہنوں اور بھائیوں کو وہاب اللہ نے قتل کیا ہے۔
بچ جانے والے ایک 14 سالہ بچے کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ان کو بھی قتل کرنے کی کوشش کی تھی لیکن انھوں نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ان کا ساتھ دیں گے جس کے بعد جان بخشی گئی۔
بدھ کو ایس ایس پی سکھر عرفان سموں نے بتایا تھا کہ جب پولیس موقعے پر پہنچی تو گھر کے اندر تین چارپایوں پر نو لاشیں موجود تھیں۔
’ایک لاش صحن میں چارپائی پر پڑی تھی جبکہ بہو کی لاش کمرے میں پڑی تھی۔ گھر کا سربراہ چار بیٹوں سمیت فرار تھا۔‘
ہلاک ہونے والوں کی شناخت 42 سالہ رقیہ زوجہ وہاب اللہ انڈہڑ، 18 سالہ مسمات اقرا ولد وہاب اللہ انڈہڑ، آٹھ سالہ اسرا ولد وہاب اللہ انڈہڑ، چھ سالہ ثریا ولد وہاب اللہ، پانچ سالہ حاجایانی ولد وہاب اللہ، 19 سالہ مسمات نسیمہ زوجہ حبیب اللہ انڈہڑ، تین سالہ نازیہ ولد حبیب اللہ، ایک سالہ علی شیر ولد حبیب اللہ، چار سالہ محمود اسد، تین سالہ محمود احسن اور ایک سالہ بچہ شامل ہے۔
پولیس کے مطابق انھیں ایک خنجر ملا ہے جس کے بارے میں خیال ہے کہ یہی آلہ قتل تھا۔
پولیس کے مطابق عبدالوہاب کے کُل 13 بہن بھائی ہیں لیکن وہ ان سے علیحدہ اپنے خاندان کے ساتھ محمد حسن انڈہڑ میں رہتے تھے۔ پولیس کے مطابق ان کی اپنے دیگر خاندان سے کوئی ناراضی تھی اور وہ اسی لیے ان سے دور رہتے تھے۔
جس گاؤں میں ان کا گھر ہے وہاں صرف پانچ خاندان بستے ہیں۔
پولیس کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق عبدالوہاب کسی ذہنی مرض میں بھی مبتلا رہے ہیں اور حیدرآباد میں قائم نفسیاتی ہسپتال میں ان کا علاج بھی ہوا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ مشتاق مہر نے واقعے کا نوٹس لے رکھا ہے اور پولیس حکام سے تفصیلات طلب کر لی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

لی مارکیٹ میں عوام کیلئے سہولیات سے لیس نئے بیت الخلا قائم

لی مارکیٹ میں عوام کیلئے سہولیات سے لیس نئے بیت الخلا قائم

کراچی: بیت الخلا دو خواتین کے لیے اور دو مردوں کے لیے پاکستان کے پہلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے