بین الاقوامی تنظیموں کی طرف دیکھنے کی بجائے قومی طاقت پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا

بین الاقوامی تنظیموں کی طرف دیکھنے کی بجائے قومی طاقت پر زیادہ انحصار کرنا ہوگا

اسلام آباد: مقبوضہ جموں و کشمیر کا ضمیمہ: علاقائی سلامتی کے لیے اسباق” کے عنوان سے منعقدہ ایک ویبنار میں شریک وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک "نئی دنیا ہے جو بہادر یا قبر ہے، اس کا انحصار ہم پر ہے جس کا ہمیں مقابلہ کرنا ہے

شاہ محمود قریشی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تنظیموں کے بین الاقوامی قانون کے معاون نظام توقعات پر پورا نہیں اتر سکے لہٰذا ان ممالک کو ان تنظیموں کی طرف دیکھنے کی بجائے اپنی طاقتوں پر انحصار کرنا ہوگا۔
ہندوستان کے توسیع پسندانہ ڈیزائنوں سے نمٹنے کے لیے حکومت کی حکمت عملی کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت چار جہتی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، اس میں نئی ​​دہلی کے ارادوں کا مقابلہ کرنا، اس کے ارادوں کو بے نقاب کرتے ہوئے پیچھے دھکیلنا، فوجی تیاری کے ذریعے مزاحمت کرنا
چین پاکستان اقتصادی راہداری، شنگھائی تعاون تنظیم اور اقتصادی تعاون تنظیم میں شرکت کے ذریعے ہندوستان کے اقدامات سے اپنی توجہ نہ ہٹاتے ہوئے علاقائی اتحاد کے منصوبے جاری رکھنا، وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جنوبی ایشیائی علاقائی ممالک کی ایسوسی ایشن کی بحالی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے ان شعبوں کی فہرست بتائی جہاں ان کے خیال میں سفارتکاری کا فقدان ہے۔
گزشتہ ہفتے مسئلہ کشمیر سے نمٹنے کے معاملے پر دفتر خارجہ کے خلاف احتجاج کیا تھا، ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ایک وسیع پیمانے پر معاملت کو دیکھنے کو کے بجائے سیاسی حرکیات پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے، انہوں نے تجویز دی کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں خواتین اور بچوں کے دکھوں کو جارحانہ انداز میں اجاگر کیا جائے۔
اپنے موقف کو برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ ہم نے کشمیری خواتین کی حالت زار پر خواتین کی تنظیموں سے خاطرخواہ اپیل نہیں کی۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

اسلام آباد: ڈی ایچ او آفس اسلام آباد کی رپورٹ کے گذشتہ روز اسلام آباد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے