نواز شریف جے آئی ٹی بنتے ہی استعفیٰ دے دیں گے، چوہدری شجاعت کی بڑی پیش گوئی

لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق اور مسلم لیگ قاف کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پاناما کیس کو مانیٹر کرنے کے لئے وکلا کی مشترکہ ٹیم بنانے کا اعلان کر دیا، سراج الحق کا کہنا ہے کہ کرپشن پاکستان میں تمام مسائل کی ماں ہے، کرپشن، کرپٹ سسٹم اور پاکستان اکٹھے نہیں چل سکتے، پہلی بار ہمارے ججز نے وزیراعظم کو صادق اور امین کا سر ٹیفکیٹ نہیں دیا، جبکہ قاف لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم جے آئی ٹی بنتے ہی استعفیٰ دے دیں گے، صادق اور امین نہ ہونے کی وجہ سے نواز شریف عہدے پر فائز رہنے کے اہل نہیں۔
 نجی ٹی وی کے مطابق امیر جماعت اسلامی کی سربراہی میں جماعت اسلامی کے وفد نے چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی اور پانامہ فیصلہ کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی، طارق بشیر چیمہ، سینیٹر ایس ایم ظفر، میاں مقصود احمد، ڈاکٹر وسیم اختر سمیت دیگر بھی موجود تھے ۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ  سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں وزیراعظم کو آرٹیکل 62 اور 63 کی روشنی میں صادق اور امین قرار نہیں دیا،  سپریم کورٹ کے  پانچوں ججز  نے اس پر اتفاق کیا کہ مزید تحقیقات کی ضرورت ہے اور ایک لحاظ سے  انہیں ملزم ڈیکلیئر کیا۔ انہوں نے کہا کہ  میں سمجھتا ہوں کہ پاکستان کی تاریخ میں یہ ایک بہت بڑا فیصلہ ہے کہ وزیراعظم سے تفتیش کے لئے ایک جے آئی ٹی بنائی گئی ہے،  یہ پہلے عموماً دہشت گردی میں ملوث ملزمان کے حوالے سے ٹیم بنتی رہی، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ جے آئی ٹی کی اس کارروائی کو شفاف بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اسے پبلک رکھا جائے اور چیف جسٹس سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ ساری کارروائی کو شفاف بنانے کے لئے یقینی انتظامات کئے جائیں۔
جماعت اسلامی اور پاکستان مسلم لیگ (ق) نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ اس کیس کو مانیٹر کرنے کے لئے ہمارے وکلاء کی مشترکہ ٹیم بنائی جائے گی جو مسلسل اس کارروائی کی نگرانی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کو اخلاقی طور پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے وزیراعظم استعفیٰ دے دیں، اگر وہ کیس میں کلیئر نکلے اور عدالت نے انہیں کلین چٹ دے دی تو وہ دوبارہ 60 دن کے بعد وزیراعظم بن جائیں، لیکن داغدار دھبے کے ساتھ ایک وزیراعظم کا ہونا پاکستان کے وقار کے منافی ہے۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  چوہدری شجاعت حسین نے پیش گوئی کی کہ وزیراعظم جے آئی ٹی بنتے ہی استعفیٰ دے دیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ پانچوں ججوں نے کہاکہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے اس لیے وہ کسی سرکاری منصب کے اہل نہیں ہیں ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم کو فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے ۔ چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا کہ ہم جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر کرپٹ عناصر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف, سے کوٹ لکھپت جیل, میں اہل خانہ اور, پارٹی رہنماؤں, کی ملاقات

نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات

لاہور: نواز شریف سے جیل میں ملاقات کے لیے مختص ہے اور جیل انتظامیہ کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے