ہائی کورٹ نے ننکانہ کی سکھ لڑکی سے مسلمان لڑکے حسن کی شادی کو جائز قرار

ہائی کورٹ نے ننکانہ کی سکھ لڑکی سے مسلمان لڑکے حسن کی شادی کو جائز قرار

لاہور: ننکانہ میں سکھ لڑکی سے شادی کرنے والے لڑکے حسن کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی گئی تھی کہ انھیں ہراساں کیا جا رہا ہے، لاہور ہائی کورٹ نے کیس کی سماعت کے بعد مسلمان ہونے والی لڑکی عائشہ کی حسن سے شادی کو جائز اور قانونی قرار دیا

عدالت نے عائشہ کو حسن کے ساتھ جانے کی اجازت بھی دے دی، اور عائشہ کا حق مہر بڑھا کر 10 لاکھ روپے کر دیا۔
قبل ازیں، عدالتی حکم پر عائشہ کو دارالامان سے سخت سیکورٹی میں عدالت میں پیش کیا گیا، درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ نادرا ریکارڈ کے مطابق عائشہ کی عمر 20 سال ہے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ انھوں نے ننکانہ کی سکھ لڑکی عائشہ کو مسلمان کر کے لاہور میں شادی کی تھی، گورنر پنجاب نے صلح بھی کرائی مگر اب بھی مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے۔
سکھ مذہب کو چھوڑ کر مسلمان ہونے والی لڑکی عائشہ نے بھی عدالت میں بیان دیا کہ میں 2000 میں پیدا ہوئی اور بالغ ہوں۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا عدالت لڑکی کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، قانون بالغ لڑکی کو مرضی سے جانے کی اجازت دیتا ہے۔ اس کیس کی سماعت جسٹس شہرام سرور چوہدری نے کی۔

یہ بھی پڑھیں

اینٹی کرپشن پنجاب کا قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن جاری

اینٹی کرپشن پنجاب کا قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن جاری

لاہور:اینٹی کرپشن پنجاب نے ضلع لودھراں میں قبضہ مافیا کے خلاف کارروائی کی ڈی جی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے