ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ

ڈونلڈ ٹرمپ کی میڈیا بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کے نزدیک فائرنگ

امریکا: سیکرٹ سروس یونیفارمڈ ڈویژن کے سربراہ ٹام سلیوان نے کہا کہ وائٹ ہاؤس کمپلیکس کی خلاف ورزی نہیں کی گئی تھی اور سیکرٹ سروس پروٹیکشن میں کسی کو بھی خطرہ نہیں

51 سالہ شخص کا نام اور اس کی حالت ٹام سلیوان نے جاری نہیں کی تاہم کولمبیا کے فائر ڈپارٹمنٹ نے بتایا کہ شخص شدید زخمی ہوا یا اسے ممکنہ طور پر شدید چوٹیں آئیں۔
ٹام سلیوان نے کہا کہ اس شخص نے دعوی کیا تھا کہ وہ مسلح تھا اور وہ جارحانہ طور پر افسر کی طرف بڑھا اور فائرنگ کرنے کو تیار دکھائی دیا جس پر افسر نے اسے ایک مرتبہ گولی ماری تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ شخص واقعتا مسلح تھا یا نہیں۔
قانون نافذ کرنے والے عہدیدار مذکورہ شخص کے مقصد کا تعین کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور حکام اس کی تفتیش کر رہے ہیں کہ یہ شخص کسی ذہنی بیماری میں مبتلا تو نہیں رہا۔
ٹرمپ نے کورونا وائرس بریفنگ شروع ہی کی تھی کہ امریکا سیکریٹ سروس کے ایک ایجنٹ انہیں بریفنگ روم سے باہر لے گئے۔
امریکی صدر چند منٹ بعد واپس آئے اور بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے باہر ‘شوٹنگ کی گئی تھی جس پر قابو پالیا گیا ہے’۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ‘واقعی شوٹنگ ہو رہی تھی اور کسی کو ہسپتال لے جایا گیا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے گولیاں چلائیں اور انہیں یقین ہے کہ جس شخص کو گولی مار دی گئی وہ مسلح تھا۔
انہوں نے کہا کہ ‘یہ مشتبہ شخص تھا جسے گولی مار دی گئی ہے’۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایجنٹ اسے اوول آفس لے گئے تھے، اس واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس کو لاک ڈاؤن کردیا گیا۔
صحافیوں کو پیر کی رات بیان میں ٹام سلیوان نے بتایا کہ فائرنگ شام 6 بجے سے پہلے اس وقت ہوئی جب اس شخص نے 17 ویں اسٹریٹ اور پنسلوینیا ایونیو کے قریب باوردی سیکرٹ سروس کے افسر سے بات کی اور اسے بتایا کہ اس کے پاس اسلحہ ہے۔
مذکورہ شخص پھر مڑا ‘افسر کی جانب جارحانہ انداز میں بھاگنے لگا، اپنے لباس سے ایک شے کو نکالا اور گولی مارنے والوں کی طرح پوزیشن لینے لگا جیسے کہ اسلحہ چلانے والا ہے’۔
انہوں نے کہا کہ ‘بعد ازاں افسر نے اس شخص کو ایک گولی ماری’۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزم اور افسر دونوں کو اسپتال لے جایا گیا تاہم انہوں نے اس افسر کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی اور جائے وقوع کے قریب ہونے والی نیوز کانفرنس میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔
سیکریٹ سروس کے ذریعہ فائرنگ کا اندرونی جائزہ لیا جارہا تھا ، اور میٹرو پولیٹن محکمہ بھی ایک معیاری پروٹوکول کی تحقیقات کررہا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ نے سیکریٹ سروس کے اہلکاروں کی تعریف کی کہ وہ انہیں محفوظ رکھنے کے لیے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
اس واقعے سے گھبرانے کے حوالےسے سوال کے جواب میں ٹرمپ نے صحافی سے سوال کیا کہ ‘مجھے نہیں معلوم، کیا میں گھبرایا ہوا لگتا ہوں؟’۔

یہ بھی پڑھیں

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

ریاست جارجیا کے حراستی مراکز میں قید خواتین کے ’رحم مادر‘ نکالے جانے کا اسکینڈل

امریکا: اسکینڈل اس وقت سامنے آیا جب ریاست جارجیا کی ارون کاؤنٹی کے ایک حراستی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے