کاش کورونا ختم ہو چکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے ابھی ایسی صورتحال نہیں ہے

کاش کورونا ختم ہو چکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے ابھی ایسی صورتحال نہیں ہے

اسلام آباد: اسد عمر نے کہا کہ جس دن سے ہم نے یہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کیا ہے تو لوگوں سے یہ سن رہا ہوں کہ کورونا ختم ہو گیا، کاش کورونا ختم ہو چکا ہوتا لیکن بدقسمتی سے ابھی ایسی صورتحال نہیں ہے

وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ جون کے وسط میں لندن کے امپیریئل کالج کی تحقیق بہت مشہور ہوئی جس میں بہت خوفناک اور دل کو دہلا دینے والی پیش گوئیاں تھیں، اس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ اموات 10 اگست کو ہوں گی اور اس ایک دن میں 78 ہزار سے زائد پاکستانی کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہو جائیں گے اور میں نے اس وقت بھی کہا تھا کہ اس کا عشر عشیر بھی نہیں ہو گا۔
امپیریئل کالج کی تحقیق کے برعکس 10 اگست کو پاکستان میں 15 افراد کورونا کی وجہ سے جاں بحق ہوئے اور یہ اموات بھی افسوسناک ہیں، ایسا نہیں کہ اب ہم فتح کا اعلان کر کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں۔
انہوں نے وبا پر قابو پانے میں کامیابی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ماہ اپریل میں ایک جامع منصوبہ بنایا گیا اور ہم ان لوگوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے جن کے وائرس سے ہلاک ہونے کا زیادہ خطرہ تھا اور کانٹیکٹ ٹریسنگ کی بنیاد پر ہم 11 لاکھ کانٹیکٹس کا پتا لگانے میں کامیاب رہے۔
ان میں سے 10 لاکھ سے زائد کے ٹیسٹ کیے گئے، ساڑھے 10فیصد اس میں ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح تھی، یعنی اب تک پاکستان میں جو 2 لاکھ 85 ہزار کیسز مثبت آئے ہیں ان میں سے ایک لاکھ اس کانٹیکٹ ٹریسنگ کی بدولت سامنے آئے۔
اس کی بدولت ہم ان تک جلدی پہنچے، انہیں علاج کرانے کا فائدہ ہوا، اموات بھی ہوئیں اور جب انہیں پتا چلا کہ وہ بیمار ہیں تو انہوں نے بھی احتیاط کی جس سے بیماری نہیں پھیلی۔
اسد عمر نے کہا کہ مجموعی طور پر پاکستان میں جو 48 فیصد ٹیسٹ کیے گئے ہیں اور 38 فیصد جو مجموعی طور پر مثبت کیسز سامنے آئے ہیں وہ سب اس کانٹیکٹ ٹرینسنگ کی بدولت ممکن ہو سکا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ ہم ایک بیمار آدمی سے 10.8 بیمار آدمیوں تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں اور جنوبی کوریا جسے کانٹیکٹ ٹریسنگ کے نظام کا رول ماڈل تصور کیا جاتا ہے، ہمارے ہاں بھی وہی شرح ہے۔
سیاحتی مقامات پر عوام کے رویے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کورونا جو اتنی مشکل سے پھیلنا کم ہوا تھا، یہ بداحتیاطی کی صورت میں دوبارہ بڑھ بھی سکتا ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ احتیاط اس لیے ضروری ہے کہ یہ صرف صحت کا مسئلہ نہیں ہے، جب یہ کورونا آیا تو ہماری برآمدات میں 40 فیصد سے زائد کمی آئی، ریونیو کے محصولات میں بھی 40 فیصد کی کمی نظر آئی، یہ 40 فیصد ملک کا روزگار ہے، یہ کروڑوں لوگوں کی زندگی کی آمدنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کیسز کی سماعت

وفاقی دارالحکومت میں بڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف کیسز کی سماعت

اسلام آباد: شہزاد اکبر، سیکرٹری داخلہ نسیم کھوکھر، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات، آئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے