بل گیٹس نے پاکستان کو مثالی ملک قرار دیا یا نہیں

بل گیٹس نے پاکستان کو مثالی ملک قرار دیا یا نہیں

اسلام آباد: پاکستان تحریکِ انصاف کے ٹویٹر ہینڈل سے شئیر کی گئی ٹویٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے بل گیٹس کا کہنا ہے کہ پاکستان میں متاثرین کی تعداد کم ہو رہی ہے جبکہ انڈیا میں یہ تعداد بڑھتی جا رہی ہے

سیاسی جماعت کے اکاؤنٹ سے کی جانے والی ٹویٹ میں لکھا ہے: ’یہ ہے وزیرِ اعظم عمران خان (ایک عظیم رہنما) اور نفرت کا پرچار کرنے والے نریندر مودی میں فرق۔
اتنا تو آپ بھی جاتنے ہی ہوں گے کہ سوشل میڈیا پر اکثر کسی انٹرویو یا ویڈیو کا صرف ایک حصہ وائرل کر دیا جاتا ہے جسے لے کر واہ واہ یا تنقید کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور پوری بات کوئی نہیں بتاتا۔
تو کیا بل گیٹس نے واقعی ایسا کہا؟ ہم نے پوری بات جاننے کی کوشش کی ہے۔ باقی بل گیٹس نے پاکستان کو مثالی ملک قرار دیا یا نہیں، اس کا فیصلہ آپ خود کر لیجیے گا۔
دراصل ہوا کچھ یوں کہ بل گیٹس گذشتہ رات امریکی نشریاتی ادارے سی این این پر میزبان فرید زکریا کے شو میں امریکہ سمیت دنیا بھر میں کورونا کی صورتحال، ٹیسٹنگ اور ویکسین کے متعلق بات چیت کر رہے تھے اور جائزہ لیا جا رہا تھا کہ باقی دنیا کے مقابلے میں آخر امریکہ میں صورتحال اتنی کیوں خراب ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ’دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لیں، تو کیا چیز آپ کو حیران کرتی ہے؟
میزبان فرید زکریا نے ان سے پوچھا کہ ’دنیا میں سری لنکا اور پاکستان جیسے ممالک کی مثالیں بھی ہیں، خاص کر پاکستان جہاں میری معلومات کے مطابق انھوں نے کورونا پر قابو پانے کے لیے کچھ بھی نہیں کیا، یقیناً وہاں بہت سے متاثرین رپورٹ بھی نہیں ہوئے ہوں گے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں متاثرین اور اموات کی شرح انتہائی کم ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس ویتنام اور تائیوان جیسے ممالک کی مثالیں موجود ہیں اور دوسری طرف اٹلی اور نیویارک کی صورتحال ہے۔۔ تو یہ سب دیکھ کر کیا آپ وائرس کی نوعیت کے متعلق کوئی نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں؟‘
بل گیٹس کا کہنا تھا کہ وہ ممالک جہاں پہلے سارس وائرس پھیل چکا ہے، انھیں اس چیز کی سمجھ آ گئی ہے کہ اگر سانس کی وبا دوبارہ آئے تو کس طرح ٹیسٹنگ کرنی ہے اور چونکہ امریکہ کے مقابلے میں وہ وائرس کو جلدی پکڑنے میں کامیاب رہے، اسی لیے وہاں انسانی رابطے سے پھیلنے والی بیماری کے متاثرین کی تعداد کم ہے اور اس کی سب سے بہترین مثال جنوبی کوریا ہے یا ویتنام جیسے ممالک ہیں جہاں صحت کا بہترین نظام موجود ہے۔
ہمارا ماننا ہے کہ جنوبی مشرقی ایشیا کے ممالک میں رہنے والے افراد میں وائرل بیماری کے خلاف بہتر قوتِ مدافعت موجود تھی اسی لیے وہاں وائرس زیادہ نہیں پھیلا (اس کے علاوہ ان ممالک میں زیادہ نوجوان آبادی بھی ایک وجہ رہی)۔
پاکستان کے حوالے سے بات کرتے ہوئے، رواں سال جنوری سے اگست تک کی صورتحال کا گراف دکھاتے ہوئے بل گیٹس کا کہنا تھا: ’کراچی میں کووڈ 19 متاثرین کی شرح خاصی خطرناک رہی، لیکن اب وہاں یورپ جیسی صورتحال ہے اور متاثرین کی تعداد کم ہو چکی ہے لیکن مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ انڈیا میں ابھی بھی جنوبی امریکہ جیسی صورتحال ہے۔‘
تو یہ تھی پوری بات چیت، آئیے اب آپ کو دونوں پڑوسی ممالک کے سوشل میڈیا صارفین کی آرا بتاتے ہیں۔
تحریک انصاف کی رکن قومی اسمبلی منزہ حسن عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’بل گیٹس کا پاکستان کی کورونا وائرس سے متعلق پالیسی بارے بیان وزیراعظم عمران خان کی انتھک کوششوں کا اعتراف ہے۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جس نے اتنی جلدی اس وبا کو نا صرف کنٹرول کیا بلکہ ملک کی معیشت کا پہیہ بھی جام نہیں ہونے دیا۔‘
کئی صارفین یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ ہمیں خود پر یقین کرنے کے لیے بل گیٹس کی توثیق کی کیوں ضرورت ہے؟
دوسری طرف اسے صارفین بھی ہیں جن کا کہنا ہے کہ ’یہ بندہ پاکستان کو نظر لگائے گا۔
جہاں کئی صارفین بل گیٹس کے بیان کو لے کر حکومت کی تعریف کر رہے ہیں وہیں ایسے افراد بھی ہیں جو بل گیٹس سے اتفاق نہیں کرتے۔ نوید احمد کہتے ہیں ’جتنے لوگ کورونا سے مر گئے وہ اپنی بے احتیاطی کی وجہ سے مرے ہیں اور جو بچ گئے ہیں وہ حکومت کی کارکردگی کی وجہ سے بچے ہیں۔ وزیرِ اعظم کا کہنا ہے خود ہی احتیاط کرنا ساڈے تے نہیں رہنا۔
راشد منہاس نامی صارف کہتے ہیں ’بل گیٹس صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ نوجوان آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کو کامیابی ملی۔ انھوں نے اور کچھ نہیں کہا۔‘
جہاں کئی صارفین یہ کہتے نظر آئے کہ ’بیچارے بل گیٹس کو بھی پتہ نہیں ہے کہ یہ تو ٹیسٹنگ نہ کرنے کی وجہ سے ہوا ہے‘ وہیں ایسے تبصرے بھی سامنے آئے ’کہ بل گیٹس تو مان گیا مگر اپنے ملک کے شہریوں کو کیسے منائیں گے؟‘
دوسری جانب سرحد پار سے کچھ اسے ردِعمل آ رہے ہیں۔ عارف رفیق کہتے ہیں ’مودی کے بگھت اب بل گیٹس کو چھوڑیں گے نہیں۔‘
اور تو اور بل کی بات سے اتفاق نہ کرنے والے کئی صارفین تو اپنے کمپیوٹر سے ونڈوز اُڑانے کی دھکمیاں بھی دے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے گھوسٹ ملازمین کے نام پر 5 ارب روپے کھا رہا تھا

میٹروپولیٹن کارپوریشن(کے ایم سی) کے گھوسٹ ملازمین کے نام پر 5 ارب روپے کھا رہا تھا

اسلام آباد: چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے