وزیر اعظم کا توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے مکمل منصوبہ

وزیر اعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ ملک کا قانون ساز ادارہ پارلیمٹ ہاؤس اب بجلی پیدا کرنے میں بھی خودکفیل ہوگیا ہے۔

منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے منصوبے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ اس منصوبے سے جہاں ایک طرف پارلیمنٹ ہاؤس بجلی خود پیدا کرنے میں خودکفیل ہوگیا ہے وہیں دوسری طرف اس منصوبے سے اپنی ضروریات پوری کرنے کے بعد نیشنل گرڈ سٹیشن میں اضافی بجلی بھی بھیجی جائے گی۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک میں توانائی کے بحران کے خاتمے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جارہے ہیں اور اگلے دو برسوں میں بجلی کی قلت ختم ہوجائے گی۔

یہ منصوبہ چین کی حکومت کی طرف سے پاکستانی حکومت کو ایک تحفہ ہے اور اس منصوبے پر کام کا افتتاح چین کے صدر کے گذشتہ برس پاکستان کے دورے پر کیا گیا تھا۔

اس منصوبے پر ترقیاتی کام گذشتہ برس23 مارچ کو شروع ہوا تھا اور یہ منصوبہ 15 دسمبر کو مکمل کیا گیا ہے۔

اس منصوبے سے ایک میگاواٹ بجلی پیدا ہوگی اور پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی گرین پارلیمنٹ قرار دی گئی ہے جس میں یہ منصوبہ لگایا گیا ہے۔

اس منصوبے کو اگلے25 سال تک کسی مرمت کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس منصوبے کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ ماحول دوست منصوبہ ہے جو کاربن ڈائی اکسائیڈ اور سلفر ڈائی اکسائیڈ جیسی مضر صحت گیسوں سے پاک ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں پر ملک کے 20بیس کروڑ عوام کے منتخب نمائندے موجود ہیں یہاں پرقوانین بنتے ہیں اور لوگوں کی ترقی کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

اس تقریب میں قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق، سینیٹ کے چیئرمین میاں رضا ربانی اور چین میں پاکستان کے سفیر کے علاوہ متعدد ارکان پارلیمنٹ موجود تھے۔

اس منصوبے کے بعد پارلیمنٹ ہاوس کی بجلی کا بل صفر ہوجائے گا جبکہ اس سے پہلے قومی اسمبلی اور سنینٹ کے اجلاس کے انعقاد کے موقع پر 40 سے 50 لاکھ روپے تک پارلیمنٹ ہاوس کا بجلی کا ماہانہ بل آتا تھا۔ بجلی کے بل کی عد م ادائیگی پر متعدد بار پارلیمنٹ ہاؤس کی بجلی منقطع کی جاچکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بجلی چوری, پر, قابو پانے سے, اٹھاون ارب روپے, حاصل ہوئے

بجلی چوری پر قابو پانے سے اٹھاون ارب روپے حاصل ہوئے

اسلام آباد: بجلی کے بلوں کی وصولی میں اکیاسی ارب روپے کے اضافہ پر وزیراعظم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے