سائنسدانوں نے سیلفی میں خوبصورت نظر آنے کا سب سے بڑا راز بے نقاب کردیا جو ہر شخص کو ضرور معلوم ہونا چاہیئے

سڈنی: سیلفی آج کے نوجوانوں کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے اور وہ اس بات پر بہت سا وقت صرف کردیتے ہیں کہ کس طرح ایک خوبصورت اور آئیڈیل سیلفی بنا کر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جائے۔ آسٹریلیا کی ایک خاتون سائنسدان ڈاکٹر انوکا لنڈل نے نوجوانوں کا یہ مسئلہ حل کرنے کیلئے ایک تحقیق کی، جس کے نتائج اب سامنے آگئے ہیں۔ ڈاکٹر انوکا کا کہنا ہے کہ اگر آپ بہترین سیلفی چاہتے ہیں تو موبائل فون اپنے بائیں ہاتھ میں پکڑ کر اپنی بائیں طرف سے سیلفی بنائیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی ہزاروں سیلفیوں کے تجزیے سے معلوم کیا ہے کہ بہترین سیلفی بائیں طرف سے آتی ہے۔ ڈاکٹر انوکا کا یہ بھی کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر سیلفی پوسٹ کرنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پہلے ہی اس اصول کا استعمال کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 53 فیصد سے زائد لوگ بائیں طرف سے سیلفی بنا کر پوسٹ کرتے ہیں، حالانکہ کل آبادی میں سے صرف 10 فیصد لوگ ہی قدرتی طور پر بائیں ہاتھ سے کام کرنے والے ہیں۔

ڈاکٹر انوکا، جو کہ میلبرن کی لاٹروب یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کا کہنا ہے کہ سیلفی کی خوبصورتی کا انحصار بنیادی طور پر زاویے پر ہے۔ ان کی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بائیں طرف سے تصویر بنانے پر زاویہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ آپ کی صورت زیادہ پسندیدہ نظر آتی ہے۔ انہوں نے اپنی تحقیق کے دوران دو ہزار سے زائد سیلفیوں کا سائنسی تجزیہ کیا اور ان کی یہ تحقیق سائنسی جریدے ’فرنٹیئرز ان سائیکالوجی‘ میں شائع کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا ہے اور اس نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاؤں میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھول دیئے ہیں جن کا پانی خرمنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آج دن 11 بجے ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام سے پاکستان میں داخل ہو گا اور پھر 30 گھنٹے بعد ہیڈ سلیمان کے راستے بہاول نگر میں داخل ہو گا۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بریگیڈئیر مختار احمد کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ عملاً معطل کر دیا ہے: ڈپٹی کمشنر انڈس واٹر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت جاری ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر دیا ہے۔ شیراز میمن نے کہا کہ بھارت نے ہر قسم کی واٹر ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی ہے اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر پیشگی اطلاع نہیں دی، وہ مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکم جولائی سے ستمبر تک کا دریاوں کا ڈیٹا بھی نہیں بھیجا، کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے شیڈول اجلاس بھی نہیں ہو رہے، بھارتی رویئے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ 80 تا 90 ہزار کیوسک ہونےکا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی پر بھی بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ گزشتہ72گھنٹے میں راوی، بیاس اور ستلج کے بالائی علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بھاکرہ ڈیم اور زیر علاقوں سے آنے والا پانی سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بھارت کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے