وزیر اعظم کو زیادہ سے زیادہ معاونین کی تقرری کا حق حاصل ہے

وزیر اعظم کو زیادہ سے زیادہ معاونین کی تقرری کا حق حاصل ہے

اسلام آباد: عدالت میں مشاہدہ کیا گیا کہ ‘وزیر اعظم ریاست کے چیف ایگزیکٹو ہیں اور انہیں متعدد / پیچیدہ فرائض انجام دینے پڑتے ہیں، وزیر اعظم کے طور پر منتخب ہونے والا شخص پاکستان اور مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے سامنے جوابدہ ہے

آئین کے تحت بیان کردہ وزیر اعظم کا کردار وہ اکیلے ادا نہیں کرسکتے، وزیر اعظم کو ریاست کے امور چلانے کے لیے عہدیداروں یا دیگر افراد کو مدد کے لیے مقرر کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔
عدالتی حکم کے مطابق رول 4 (6) ایسے ہی طریقوں میں سے ایک ہے جس کے تحت وزیر اعظم کو خصوصی معاونین کی تقرری کا اختیار دیا گیا ہے، خصوصی معاونین کی تعداد کے بارے میں کوئی پابندی نہیں ہے جبکہ دوہری شہریت رکھنے والے افراد کی تقرری پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے، آئین میں فراہم کردہ واحد پابندی آرٹیکل 63 (1) (سی) کے تحت ہے اور یہ پارلیمٹ میں منتخب ہونے والے یا منتخب کردہ افراد کی نااہلی تک محدود ہے’۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مشاہدہ کیا کہ ‘صوبائی اسمبلی کی رکنیت کی صورت میں بھی نااہلی کی جاسکتی ہے، چند قوانین موجود ہیں جو ملازمت کے لیے اہلیت کے طور پر کسی اور ریاست کی شہریت ترک کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ: "1973 کے رول 4 (6) کے تحت خصوصی معاون کی تقرری کے لیے اس طرح کی کوئی پابندی نہیں ہے، 1973 کے قواعد کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکلکز 90 اور 99 کے کے تحت دیے گئے اختیارات کے استعمال سے وفاقی حکومت نے بنائے اور اس کو قانونی طور پر نوٹی فائی کیا ہے، آرٹیکل 99 کا ذیلی آرٹیکل 3 وفاقی حکومت کو اپنے کاروبار میں مختص اور لین دین کے لیے قواعد بنانے کا اختیار دیتا ہے۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ پاکستان سٹیزنشپ ایکٹ 1951 کے تحت پاکستان کے شہری کو دوہری شہریت رکھنے کی صریحاً اجازت دی گئی تھی جیسا کہ دفعہ 14 (3) میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دوہری شہریت کے حامل کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر تقرری کے سلسلے میں شکوک و شبہات اٹھانا یا شکوہ کرنا مناسب نہیں ہے۔
پاکستان کے شہری کی حب الوطنی پر شک نہیں کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس پر شبہ کیا جاسکتا ہے، جو شخص دہری شہریت کا حامل ہے وہ واقعتا پاکستان کا شہری ہے اور اس طرح اس کی پاکستان اور حب الوطنی سے وابستگی پر شک نہیں کیا جاسکتا۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی برطرفی کے مطالبہ کرنے والے ایک درخواست گزار پر 10 ہزار روپے کا جرمانہ عائد کردیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار ظہور مہدی نے اس درخواست کو صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا اور نہ ہی صدر کی تقرری کے خلاف حکم نامہ ماننے کی کوئی ٹھوس وجہ پیش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

نیب نے جعلی بینک اکاؤنٹس اسکینڈل میں 22 کروڑ 40 لاکھ روپے برآمد کرکے حکومت سندھ کے حوالے

اسلام آباد: جاوید اقبال نے سندھ کے چیف سکریٹری ممتاز علی شاہ کو 22 کروڑ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے