وزیراعظم نواز شریف نااہل نہیں ہوئے، پاناما کیس کا فیصلہ آگیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما کیس کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا۔ سپریم کورٹ کے کورٹ روم نمبر ایک میں جسٹس آصف سعید کھوسہ پاناما کیس کا 540 صفحات پر مشتمل پہلے سے محفوظ فیصلہ پڑھ کر سنا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ جسٹس اعجاز افضل خان نے تحریر کیا ہے، بینچ میں شامل 5 میں سے 2 فاضل ججوں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جستس گلزار احمد نے وزیر اعظم کو ڈی نوٹیفائی کرنے کا کہا جب کہ دیگر 3 جج صاحبان نے اس معاملے کی تحقیقات کی رائے کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے فیصلہ سنانے سے پہلے کہا کہ فیصلہ 547 صفحات پر مشتمل ہے، جس میں سب نے اپنی رائے دی ہے۔ امید ہےجو بھی فیصلہ ہوگا عدالت میں جذبات کا اظہار نہیں کیا جائے گا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس شیخ عظمت سعید، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل پانچ رکنی بینچ نے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کے بعد پانامہ کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا تھا۔ 57 روز فیصلہ محفوظ رکھے جانے کے بعد سپریم کورٹ کی عدالت نمبر 1 میں فیصلہ سنایا جارہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان، عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید احمد اور جماعت اسلامی کے سراج الحق نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستیں دائر کی تھیں، درخواست گزاروں نے عدالت عظمٰی سے درخواست کی تھی کہ وزیر اعظم نواز شریف، کیپٹن صفدر اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو نااہل قرار دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے مجموعی طور پر دو مرحلوں میں 36سماعتوں میں کیس کو سنا۔ پہلے مرحلے میں جب چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں کیس کی سماعت ہوئی لیکن ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد 4 جنوری 2017 سے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ تشکیل دیا گیا، سماعت کے دوران جسٹس بینچ میں شامل جسٹس عظمت سیعد کیس کو دل کی تکلیف کا بھی سامنا ہوا جس کی وجہ سے کیس کی سماعت کچھ دنوں کے لیے ملتوی کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

افغانستان کو عالمی دہشت گردی کا محرک نہ بننے دینے کی ضمانت

پشاور: قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے نویں دور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے