بغیر قانونی اختیار کے ہر صوبے میں سب سے اعلیٰ بیوروکریٹ کے عہدے پر تعیناتیاں کیں

بغیر قانونی اختیار کے ہر صوبے میں سب سے اعلیٰ بیوروکریٹ کے عہدے پر تعیناتیاں کیں

اسلام آباد: درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ انہیں جاری کردہ نوٹیفکیشنز سے تکلیف پہنچی جس میں وفاقی حکومت نے بغیر قانونی اختیار کے ہر صوبے میں سب سے اعلیٰ بیوروکریٹ کے عہدے پر تعیناتیاں کیں

خاص طور پر نافذ شدہ نوٹیفکیشن آرٹیکل (1) 1 کے جس کے تحت پاکستان کو وفاقی جمہوریت قرار دیا گیا ہے اس میں صوبائی خودمختاری کی ضمانت دینے والی شق 7 اور آرٹیکل 97، 127، 129، 137، 139 اور 24 کی خلاف ورزی ہے جو وفاق کی انتظامیہ سے متعلق ہیں۔
اس سلسلے میں ایک درخواست آل پاکستان پرووِنشل سروس ایسوسی ایشن کے کوآرڈنیٹر اور پنجاب پی ایم ایس ایسوسی ایشن کے صدر طارق محمود اعوان نے درخواست بیرسٹر عمر گیلانی کے ذریعے اور خیبرپختونخوا پی ایم ایس آفیسرز ایسوسی ایشن کے کوآرڈنیٹر فہد اکرام قاضی، بلوچستان پرووِنشل سول سروس آفیسرز ایسوسی ایشن کے کوآرڈنیٹر محمد تقی رمضان اور سندھ پی ایم ایس آفیسرز ایسوسی ایشن کے صدر شاہنواز میرانی نے اپنے اپنے وکیل کے ذریعے درخواست دائر کی۔
وفاقی حکومت کی جانب سے ہر صوبے میں اعلیٰ بیوروکریٹ کی تعیناتی آئینی طرز کے خلاف ہے جس کی بنیاد وفاقی انتظام کے اصول ہیں۔
اپنی درخواستوں میں انہوں نے سوالات اٹھائے کہ ایسے ملک میں صوبائی خود مختاری کس طرح ہوگی جہاں سب سے اعلیٰ عہدہ وفاقی حکومت کے تعینات کردہ شخص کے پاس ہو۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ وفاقی نظام حکومت میں کس طرح ممکن ہے کہ متعلقہ صوبائی کابینہ صوبے کے سب سے اہم سول سرونٹ کو تعینات کرسکتی ہے نا اس کا احتساب کرسکتی ہے۔
وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور چیف سیکریٹریز کو فریق بناتے ہوئے پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ نافذ شدہ نوٹیفکیشنز آئین کی متعدد دفعات کو متنازع بنانا اور آئین کے وفاقی طرزِ کی خلاف ہیں اور اور قانونی اختیار کے بغیر جاری کیے گئے جس کا کوئی قانونی اثر نہیں۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ وفاقی نظام حکومت میں کس طرح ممکن ہے کہ متعلقہ صوبائی کابینہ صوبے کے سب سے اہم سول سرونٹ کو تعینات کرسکتی ہے نا اس کا احتساب کرسکتی ہے۔
وفاقی حکومت، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور چیف سیکریٹریز کو فریق بناتے ہوئے پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ نافذ شدہ نوٹیفکیشنز آئین کی متعدد دفعات کو متنازع بنانا اور آئین کے وفاقی طرزِ کی خلاف ہیں اور اور قانونی اختیار کے بغیر جاری کیے گئے جس کا کوئی قانونی اثر نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

اسلام آباد: ڈی ایچ او آفس اسلام آباد کی رپورٹ کے گذشتہ روز اسلام آباد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے