امریکی صدر نے جن فوجیوں کو شمالی کوریا پر ’حملے‘ کیلئے بھیجا وہ دراصل کہاں جاپہنچے؟ جان کر پوری دنیا ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگئی

نیویارک: شام پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے شمالی کوریا کو سبق سکھانے کے لیے اپنا جنگی بیڑہ کورین پانیوں کی طرف روانہ کرنے کا حکم دیا تھا لیکن یہ بیڑہ شمالی کوریا کی طرف جانے کی بجائے ایک ایسی جگہ جا پہنچا ہے کہ ڈونلڈٹرمپ پوری دنیا کے سامنے تماشا بن کر رہ گئے ہیں۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کی شمالی کوریا سے نپٹنے کی دھمکیاں ہنگامہ خیزی کا شکار ہو گئی ہیں اور یو ایس ایس کارل ونسن نامی جنگی بیڑہ جو شمالی کوریا کی طرف روانہ کیا گیا تھا کورین پانیوں سے 3500میل دور بحر ہند کی طرف رواں دواں ہے جہاں وہ فوجی مشقوں میں حصہ لے گا۔

 

رپورٹ کے مطابق اس مضحکہ خیز اور فاش غلطی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائٹ ہاﺅس اور پینٹاگون میں ہم آہنگی کا کس قدر فقدان ہے۔ وائٹ ہاﺅس کی طرف سے اعلان کیا گیا تھا کہ یو ایس ایس کارل ونسن کو شمالی کوریا کی طرف روانہ کیا گیا ہے لیکن اب حقیقت اس کے برعکس سامنے آ گئی ہے۔امریکی انتظامیہ کے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ ”کمیونیکیشن کی سنگین غلطی کے باعث بیڑہ شمالی کوریا کی بجائے بحر ہند کی طرف چلا گیا۔“ واضح رہے کہ 8اپریل کو ڈونلڈٹرمپ نے شمالی کوریا کو دھمکی دیتے ہوئے کہا تھا کہ”ہم بحری بیڑوں کا ایک دستہ کوریا کی طرف روانہ کر رہے ہیں۔“ ان کے اس بیان سے دنیا پر تیسری عالمی جنگ مسلط ہونے کے امکانات بھی ظاہر کیے جا رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا ہے اور اس نے بڑے سیلابی ریلوں کا رخ پاکستان کی جانب موڑ دیا ہے جس کے باعث پاکستانی دریاؤں میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق بھارت نے لداخ ڈیم کے 3 اسپل ویز کھول دیئے ہیں جن کا پانی خرمنگ کے مقام پر دریائے سندھ میں شامل ہو گا۔ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر گلگت بلتستان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے دریائے ستلج میں بھی بڑا سیلابی ریلا چھوڑ دیا ہے۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی ریلہ آج دن 11 بجے ہیڈگنڈا سنگھ والا کے مقام سے پاکستان میں داخل ہو گا اور پھر 30 گھنٹے بعد ہیڈ سلیمان کے راستے بہاول نگر میں داخل ہو گا۔ ترجمان این ڈی ایم اے بریگیڈئیر مختار احمد کے مطابق دریائے ستلج میں بھارتی پنجاب سے آنے والے پانی کے بڑے ریلے کی وجہ سے سیلاب کا خطرہ ہے۔ بریگیڈئیر مختار احمد کا کہنا ہے کہ محتاط اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے 2 لاکھ کیوسک پانی پاکستانی حدود میں داخل ہو سکتا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے ضلع قصور اور اطراف کے اضلاع کی انتظامیہ کو کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ عملاً معطل کر دیا ہے: ڈپٹی کمشنر انڈس واٹر جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے ڈپٹی انڈس واٹر کمشنر شیراز میمن نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے مسلسل آبی جارحیت جاری ہے، اس نے سندھ طاس معاہدے کو عملاً معطل کر دیا ہے۔ شیراز میمن نے کہا کہ بھارت نے ہر قسم کی واٹر ڈیٹا شیئرنگ بند کر دی ہے اور ڈیموں سے پانی کے اخراج پر پیشگی اطلاع نہیں دی، وہ مسلسل سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے یکم جولائی سے ستمبر تک کا دریاوں کا ڈیٹا بھی نہیں بھیجا، کئی ماہ سے دونوں ملکوں کے شیڈول اجلاس بھی نہیں ہو رہے، بھارتی رویئے سے حکومت کو آگاہ کر دیا ہے۔ دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے نئی ایڈوائزری جاری کر دی ہے جس کے مطابق دریائے ستلج میں درمیانے اور اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق 20 اور 21 اگست سے گنڈا سنگھ والا پر بہاؤ 80 تا 90 ہزار کیوسک ہونےکا امکان ہے جو ڈیڑھ لاکھ کیوسک تک بھی جا سکتا ہے۔ فورکاسٹنگ ڈویژن کا کہنا ہے کہ 23 اگست سے ہیڈ سلیمانکی پر بھی بہاؤ بڑھنے کا امکان ہے۔ گزشتہ72گھنٹے میں راوی، بیاس اور ستلج کے بالائی علاقوں میں انتہائی شدید بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے بھاکرہ ڈیم اور زیر علاقوں سے آنے والا پانی سیلاب کا باعث بن رہا ہے۔ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔

بھارت کنٹرول لائن پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا

بھارت لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی کے ساتھ آبی جارحیت پر بھی اتر آیا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے