اس آدمی کو ہم نے ہر صورت فارغ کر دینا ہے، سعودی عرب نے روس کو واضح ترین پیغام پہنچا دیا، نیا تنازعہ پیدا ہوگیا

ریاض: شام کی جنگ میں سعودی عرب شامی حکومت کے مخالف باغی گروپوں اور روس شامی حکومت کی حمایت کر رہا ہے اور دونوں مل کر اس قضیے کا کوئی حل تلاش کرنے کی بھی کوشش میں مصروف ہیں۔ اب اس کوشش میں سعودی عرب نے روس کو ایک ایسا واضح پیغام دے دیا ہے کہ جس سے نیاتنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں روسی ایوان بالاکی سربراہ ویلنٹینا متوینکو کی سربراہی میں ایک وفد نے سعودی فرماں رواشاہ سلمان سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں شاہ سلمان نے روسی وفد پر واضح کر دیا کہ ’ہم شامی صدر بشارالاسد کی اقتدار سے فوری بے دخلی پر مصر نہیں لیکن ہمیشہ کے لیے اسے اقتدار میں کبھی نہیں رہنے دیں گے۔‘

 

رپورٹ کے مطابق روسی وفد کے ترجمان الیاس اوماخانوف کا کہنا تھا کہ ”شامی صدر کی رخصتی پر سعودی عرب نے لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے ان کی فوری اقتدار سے علیحدگی کا مطالبہ نہیں کیا۔ سعودی وزیرخارجہ عادل الجیبر نے تجویز دی ہے کہ ایک عبوری نظام قائم کیا جائے اور اس عرصے کے دوران بشارالاسد عہدے سے استعفیٰ دے دے۔“ دوسری طرف شاہ سلمان سے ملاقات میں ویلنٹینا نے انہیں بتایا کہ ”روس بشارالاسد کو ہر قیمت پر عہدے پر برقرار رکھنے کا حامی نہیں ہے لیکن پرتشدد انداز میں ان کی اقتدار سے علیحدگی کی بھی حمایت نہیں کرتا۔“

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے