مشال خان کے قتل کی بنیاد پر قانون ناموس رسالت کو غیرمؤثر بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی، قاضی احمد نورانی

کراچی: جمعیت علماء پاکستان کراچی کے صدر علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی نے خان عبدالولی خان یونیورسٹی میں پیش آنے والے واقعے کی بنیاد پر قومی اسمبلی میں منظور کی گئی قرارداد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی انسان کا قتل ایک بہت بڑا المیہ ہے، لیکن قاتلوں کو گرفتار کرنے اور قتل کے محرکات کو تلاش کرنے کے بجائے یک طرفہ پروپیگنڈا اور پھر سیکولر قوتوں کی جانب سے قانون تحفظ ناموس رسالت کو غیر مؤثر بنانے یا توہین مذہب کو رواج دینے کی سازش ناقابل برداشت ہے جس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کی غلط روش سے قوم نالاں ہے، اراکین قومی اسمبلی ابھی یہ جان لیں کہ پاکستان کے غیور عوام نے ان کو ووٹ پاکستان کے اسلامی تشخص کی حفاظت کے لئے دیئے ہیں، ناں کہ غیروں کی غلامی کرنے کے لئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 1973ء کے آئین کی اسلامی دفعات اس ملک کی اسلامی شناخت کو نمایاں کرتی ہیں اور تحفظ ناموس رسالت کا قانون آئین پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے۔

قاضی احمد نورانی کا کہنا تھا کہ اسلامیان پاکستان کسی بھی قیمت پر اس قانون میں تبدیلی یا ترمیم کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے، حقیقت یہ ہے کہ ملعونہ آسیہ مسیح، گستاخ بلاگرز اور توہین رسالت کے دیگر مجرموں کو سزا دی جاتی تو ولی خان یونیورسٹی واقعہ رونما نہ ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارے اکابرین کی بے شمار قربانیوں اور جدوجہد سے معرض وجود میں آیا ہے، اس میں اسلام مخالف قوانین ہرگز قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ عظمت مصطفےٰ ﷺ پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے اور اس کے لئے کسی قربانی سے ہرگز دریغ نہیں کریں گے، دنیا بھر کے مسلمان اس پر متفق ہیں کہ وہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں لیکن اپنے آقا و مولیٰﷺ کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں کر سکتے، کیونکہ ایک مسلمان کیلئے عظمت مصطفی ﷺ سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستان کا 72 واں جشن آزادی

ملک بھر میں جشن آزادی ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جارہا ہے آج …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے