جینفر نے زور دیا کہ لوگوں کو بغیر جانے ان کی ظاہری حالت کی بنا پر جانچنا چھوڑ دیں

جینفر نے زور دیا کہ لوگوں کو بغیر جانے ان کی ظاہری حالت کی بنا پر جانچنا چھوڑ دیں

مجھے مسلمان ہوئے سات سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے ہاں، اگرچہ میں بنا حجاب کے اپنی تصویر شیئر کر رہی ہوں، لیکن حجاب کے بغیر بھی میں مسلمان ہوں

سوشل میڈیا دباؤ کے بارے میں اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا کہ سر نہ ڈھانپ کر بھی وہ مسلمان ہی رہیں گی۔
اس پوسٹ میں جینفر نے سوشل میڈیا کے ذریعے نافذ کردہ ’غیر حقیقت پسندانہ توقعات‘ کے مسئلے پر کھل کر بات کی۔
جینیفر کے حجاب کو لے کر ان پر تنقید اتنی بڑھ گئی کہ تنگ آ کر انھوں نے سنیپ چیٹ کے کتے والے فلٹر کا استعمال کرتے ہوئے اپنی ایک ویڈیو پوسٹ کی (جسے اب ہر پلیٹ فارم سے ہٹا لیا گیا ہے) جس میں وہ یہ کہتے سنائی دیتی ہیں کہ ’آپ کو لگتا ہے میں حجاب کے بغیر کتے کے طرح نظر آتی ہوں تو یہ لیں آپ کی خواہشات کے پیشِ نظر میں کتا بن گئی ہوں۔‘
جینیفر کا تعلق امریکہ سے ہے مگر انھوں نے چار سال تک افریقی مسلم ملک مراکش میں رہائش اختیار کیے رکھی۔ عرب ممالک میں وہ اپنے عربی گانوں اور قرآن کی خوبصورت آواز میں تلاوت کے حوالے سے بہت مشہور ہیں۔
اپنے حجاب پر حالیہ بحث، اور اسلام قبول کرنے کے بعد کی ذاتی زندگی اور سوشل میڈیا پر انھیں کیا کچھ سننا اور سہنا پڑا، اس بارے میں بات کی۔ لیکن اس سے پہلے آئیے آپ کو ان کے حجاب تنازعے کا پسِ منظر بتاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے اپنی ذہنی حالت ٹھیک رکھنے کے لیے سوشل میڈیا سے بریک لینی پڑی۔ سوشل میڈیا کے مجھ پر زیادہ دباؤ ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ میں مسلم معاشرے کی ’غیر حقیقت پسندانہ توقعات‘ کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کر رہی ہوں اور اس کی وجہ سے ایک سے زیادہ مرتبہ میں اپنی ذات کو کھو بیٹھی ہوں۔
جینیفر نے اپنی ایک ایسی تصویر پوسٹ کی جس میں انھوں نے سر نہیں ڈھانپا ہوا۔ اس سے قبل وہ زیادہ تر ایسی تصاویر پوسٹ کرتی تھیں جس میں انھوں نے حجاب پہنا ہوتا تھا۔
جینیفر نے صرف اس بنا پر کہ وہ قرآن کی تلاوت کرتی ہیں، خود کو مسلم دنیا کی رول ماڈل ماننے سے انکار کیا۔
ان کا کہنا تھا ’مجھے یقین ہے کہ سر ڈھانپنا ایک ’فرض‘ ہے، اس لیے میں یقیناً کسی بھی عورت کے حجاب پہننے کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش نہیں کر رہی ہوں۔
لیکن اسی کے ساتھ ہی میں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ ہر روز خود کو کسی ایسے انسان کے طور پر پیش کرنا جو میں نہیں ہوں، میری ذات کو کچل رہا ہے۔۔۔ اور ایسا صرف اس لیے ہو رہا ہے کیونکہ میری آواز اچھی ہے اور میں قرآن کی تلاوت کرتی ہوں تو لوگ مجھ سے ایک رول ماڈل بننے کی توقع کر رہے ہیں۔‘
’میں سمجھتی ہوں کہ میرا پلیٹ فارم ایک نعمت کے ساتھ ساتھ ذمہ داری بھی ہے۔ اللہ نے مجھے بہت کچھ عنایت کیا ہے جس میں تلاوت کرنے کی قابلیت بھی شامل ہے، اور یہ ایک اعزاز ہے جسے معمولی انداز میں نہیں لیا جانا چاہیے۔
لیکن میں اپنے مداحوں کو یہ بتانے اور سمجھانے کی بھی ضرورت محسوس کرتی ہوں کہ صرف تلاوت کرنے کی قابلیت میری تعریف نہیں ہے۔۔۔ میری اور بھی بہت سی دلچسپیاں ہیں، مثال کے طور پر مجھے گانا اور شعر لکھنا پسند ہے، مجھے زبان، کھیل اور رقص پسند ہے۔
پوسٹ کا اختتام کرتے ہوئے جینفر نے کہا ’شاید کچھ دن میں آپ کو ویسی نظر آؤں جیسا آپ مجھے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور باقی دن شاید آپ مجھے ویسا دیکھیں جس کا آپ نے کبھی تصور نہ کیا ہو۔۔۔ مجھ میں بہت حد تک عیب ہیں۔۔ اللہ ہم سب کو معاف کرے۔‘
جینفر نے زور دیا کہ لوگوں کو بغیر جانے ان کی ظاہری حالت کی بنا پر جانچنا چھوڑ دیں۔ ساتھ ہی انھوں نے اپنے مداحوں کو یاد دلایا کہ ’جو کوئی بھی قرآن کی تلاوت کرتا ہے اس بنا پر وہ دوسروں سے سبقت لے جاتا ہے۔ اور میں تو صرف ایک ذریعہ ہوں۔۔۔ اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔
اپنے حجاب کے بارے میں آن لائن بحث سے متعلق، جینفر گراؤٹ کا کہنا تھا کہ ’حجاب، عبادت کا صرف ایک طریقہ ہے۔ یہ اسلام کے پانچ بنیادی ستونوں کا حصہ نہیں ہے لیکن آن لائن لوگوں کے تبصر ے پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ حجاب کو زیادہ ہی اہمیت دیتے ہیں اور اسے اسلام کا ایک بنیادی ستون سمجھتے ہیں۔
جینفر کہتی ہیں کہ لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ ’مجھ جیسے مذہب تبدیل کرنے والے بیشتر افراد کی پرورش ایک ایسے معاشرے میں ہوئی ہے جو اسلام سے بالکل مختلف ہے۔۔ اور ہمارا ہر چیز کو دیکھنے کا اپنا ایک نظریہ ہے۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اسلام قبول کیے سات سال ہو گئے ہیں اور اس دوران میں بہت سے مراحل سے گزری ہوں۔‘
امریکہ واپس جاکر جینیفر نے حجاب پہننا تو برقرار رکھا لیکن چہرے کا نقاب ختم کر دیا۔ پھر اگلے تین سال انھوں نے باقاعدگی سے حجاب پہنا۔
’اس کے بعد میں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر حجاب نہ پہننے کا فیصلہ کیا۔ لیکن قرآن کی پہلی تلاوت کے بعد جب مجھے بہت شہرت ملنے لگی تو میں نے دوبارہ حجاب پہننا شروع کر دیا۔‘

’لیکن اب آکر مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ سب کو خوش کرنے کے چکر میں جیسے میرا دم گھٹ رہا ہو۔ لوگوں نے مجھے صرف قرآن کی تلاوت کرنے والی حجابی لڑکی کے طور پر دیکھنا شروع کر دیا۔‘

جینفر بتاتی ہیں کہ انھوں نے پانچ سال کی عمر میں موسیقی کی تعلیم کا سلسلہ شروع کیا اور ایک موسیقار کے طور پر وہ ان پلیٹ فارمز کا آغاز اسلام قبول کرنے سے کہیں پہلے کر چکی تھیں۔

’یوٹیوب چینل شروع کیے مجھے 10 سال سے زیادہ کا عرصہ، اور فیس بک پر سات سال سے زیادہ وقت ہو چکا ہے اور ان پلیٹ فارمز کا مقصد یہ تھا کہ میں خود کو ایک آرٹسٹ کے طور پر فروغ دے سکوں۔‘
جینفر کہتی ہیں کہ ان کے خیال میں سوشل میڈیا زندگی کو بہت مشکل بنا دیتا ہے۔ ’ایک آرٹسٹ کے طور پر آپ کو اس کی ضرورت پڑتی ہے۔۔۔ ایسا نہیں ہے کہ آپ یہاں اپنا آپ بیچتے ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آپ اپنی ’ذات کا ایک حصہ‘ یہاں بیچ رہے ہوتے ہیں۔‘

جینفر سمجھتی ہیں کہ ’سوشل میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے کیونکہ یہاں اپنا منجن بیچنے کے لیے آپ لوگوں کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک بار آپ ایسا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں تو اپنی انفرادیت کھونے لگتے ہیں۔‘

’شاید اسی لیے بہت سے آرٹسٹ مشہور ہونے کے بعد ذہنی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔ اسی لیے میں نے سوچا ایسا کچھ ہونے سے قبل خود کو بچا لوں۔‘
’جب میں یہ کہتی ہوں کہ قرآن کی تلاوت ایک آرٹ ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ اس سے قرآن کی روحانیت یا مذہبی اہمیت پر کوئی فرق پڑتا ہے۔ تلاوت کرنا میرے لیے بہت ہی مقدس ہے اور میں چاہتی ہوں ہمیشہ ایسا ہی رہے۔ لیکن میں صرف اس لیے حجاب پہن کر تلاوت کرتے ہوئے نظر نہیں آنا چاہتی کیونکہ لوگ مجھ سے ایسا کرنے کی توقع رکھتے ہیں۔‘
جینیفر کہتی ہیں اسلام میں کسی بھی کام کو کرنے کے پیچھے سب سے اہم چیز ’نیت‘ ہوتی ہے۔ لیکن سوشل میڈیا کا مسئلہ یہ ہے کہ جب بہت سارے لوگ مسلسل آپ کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہوں کہ آپ کو کیسا نظر آنا چاہیے، تو آپ کے پاس اپنا حقیقی روپ دکھانے کی گنجائش ہی نہیں بچتی۔
چلیے مان لیتے ہیں کہ مجھے حجاب پہننا پسند ہے لیکن دوسری طرف لاکھوں افراد ہر روز مجھے بتاتے ہیں ’تمھیں حجاب پہننا چاہیے۔۔ تمھیں خود کو ڈھانپنا چاہیے۔۔۔ تمھارا حجاب کہاں ہے۔۔۔ پھر اگر میں حجاب پہننے کا فیصلہ کرتی بھی ہوں تو یہ میری الجھن میں اضافہ کرنے کا سبب بنتا ہے۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ میں خدا کی رضا کے لیے حجاب پہن رہی ہوں یا سوشل میڈیا پر موجود لوگوں کی خوشی کے لیے۔۔۔ لوگوں کی توقعات کسی کو اپنی اچھی نیت ظاہر کرنے کا موقع ہی نہیں دیتیں۔‘
وہ کہتی ہیں ’ہماری اُمہ کی صوتحال بہت بہتر ہو جائے گی اگر انھیں نیتوں کی اہمیت سمجھ آ جائے اور یہ سمجھ آ جائے کہ اسلام میں تنوع موجود ہے۔ دنیا میں بہت سی خواتین حجاب نہیں پہنتیں لیکن وہ خود کو مسلمان کہتی ہیں اور انھیں اس کا حق حاصل ہے۔
مجھے سب سے زیادہ دکھ تب ہوتا ہے جب لوگ مجھے صرف اس وجہ سے مسیحی کہہ کر بلاتے ہیں کیونکہ میں ان کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہی۔ میں گانے بنا اور گا رہی ہوں۔‘
’کبھی کبھار میں صوفیوں کی طرح خدا سے قربت حاصل کرنے کے لیے موسیقی بناتی ہوں۔۔۔ لیکن مجھ پر تنقید کرنے والوں کو اس سب سے کوئی غرض نہیں۔۔ ان کی ساری توجہ صرف اس چیز پر ہے کہ میں نے حجاب پہن رکھا ہے یا نہیں۔‘
جینیفر نے اپنی بات کا اختتام اس بات پر کیا ’میں صرف اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ میں اپنا ذہنی توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہوں اور میں اس چیز سے انکار نہیں کر رہی کہ لوگوں کے تبصرے مجھ پر اثر انداز نہیں ہو رہے ہیں۔۔ یہ صرف کوئی دو، تین ٹرولز نہیں ہیں بلکہ یہ ہزاروں افراد ہیں جنھیں میں اپنے خاندان کی طرح سمجھتی ہوں۔۔ یہ افراد بیہودہ تبصرہ کرتے ہیں اور بنا کچھ جانے غلیظ باتیں لکھ کر چلے جاتے ہیں۔۔ یہ سب میرے لیے بہت مشکل ہے۔۔‘
میں چاہتی ہوں کہ میں یہ سب نظر انداز کروں اور اس سے اپنے آپ کو تکلیف نہ پہنچنے دوں لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں اس پر کھل کر بات کرنا چاہتی ہوں کیونکہ یہ ایک اجتماعی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے اور یہ صرف میرے بارے میں نہیں، دنیا بھر میں مسلمان عورتیں اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

پاکستانی لیجنڈری گلوکار راحت فتح علی خان عید سے قبل عوام کو تحفہ

پاکستانی لیجنڈری گلوکار راحت فتح علی خان عید سے قبل عوام کو تحفہ

کراچی: راحت فتح علی کا نیا گانا غمِ عاشقی چاند رات کو ریلیز ہوگا جو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے