ایک ویڈیومیں 4قوانین پامال کئے توہرادارہ حرکت میں آئے گا

ایک ویڈیومیں 4قوانین پامال کئے توہرادارہ حرکت میں آئے گا

اسلام آباد: چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3رکنی بینچ نے عدلیہ مخالف ویڈیو جاری کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کی

آغاافتخار نے صحت جرم سے انکار کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے تک سپریم کورٹ کارروائی روکنے کی استدعا کی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ میں مقدمہ صرف توہین عدالت کا ہے ،معافی ناموں کے باوجود صحت جرم سے انکاری ہیں توآپ کی مرضی۔
آغاافتخار کے وکیل نے ایک ہی ویڈیوکی بنیاد پر2مقدمات بننے پر اعتراض کیا تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ویڈیومیں 4قوانین پامال کئے توہرادارہ حرکت میں آئے گا ، ٹرائل کورٹ اپنے شواہد پر فیصلہ کرے گی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سائبر کرائم اوردہشت گردی کے قوانین کا توہین عدالت سے تعلق نہیں ،ہرجرم کے ٹرائل کا طریقہ، شواہد اورسزا الگ ہوتی ہے ۔
عدالتی حکم پر ایف آئی اے نے پیشرفت رپورٹ جمع کروائی جس میں بتایاگیاکہ موبائل ریکارڈ کے مطابق ملزم کے486 نمبرزکی کنٹیکٹ لسٹ میں ریٹائرڈ آرمی افسران اورسویلین شامل ہیں ،ملزم نے بیرون ممالک رابطے کئے ، زیادہ رابطے والے26 نمبرزکا ویڈیوسے کوئی تعلق نہیں ۔
عبدالوحید ڈوگر سے بھی تفتیش کی گئی، عبدالوحید ڈوگرنے بتایا کہ کہ وہ پیشہ ورانہ صحافی ہے، عبدالوحید ڈوگرنے جسٹس قاضی فائزعیسی ریفرنس سے متعلق شہزاد اکبرسے ملاقات کی تصدیق کی ، عبدالوحید ڈوگر نے افتخار الدین مرزا سے کسی قسم کی تعلق کی تردید کی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ عدالتی حکم پر افتخار الدین مرزا کے 19بینک اکاونٹس کی تحقیقات بھی جاری ہیں ، افتخار الدین مرزا کے ایک بنک اکاونٹ میں ہاوسنگ سوسائٹی کی ٹرانزکشن ہوتی رہی۔
سپریم کورٹ نے عدلیہ مخالف ویڈیو جاری کرنے سے متعلق کیس کی سماعت 3ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

کورونا وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کی شرح میں بدستور اضافہ

اسلام آباد: ڈی ایچ او آفس اسلام آباد کی رپورٹ کے گذشتہ روز اسلام آباد …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے