خواجہ سرا اور آدمی کی لاش۔۔۔ ایسی شرمناک ترین خبر آگئی کہ پوری دنیا دنگ رہ گئی، ایسا واقعہ کہ سن کر ہر انسان کانوں کو ہاتھ لگائے

نیویارک: بے راہ روی نے مغربی معاشرے کو بے شمار خباثتیں تحفے میں دی ہیں جن میں ہم جنس پرستی بھی شامل ہے، امریکی ریاست فلوریڈا میں ایسی ہی ایک خباثت پر مبنی مقدمہ دائر کروایا گیا ہے جس کے متعلق جان کر ہی انسان شرم سے منہ چھپاتا پھرے۔ ڈیلی سٹار کی رپورٹ کے مطابق یہ مقدمہ سیلویا نامی ایک خاتون کے خلاف جینیفر نامی ایک ایسی عورت نے درج کروایا ہے جو کبھی مرد ہوا کرتی تھی، یعنی خواجہ سرا تھی۔ جینیفر نے سرجری کے ذریعے اپنے خدوخال تبدیل کروا کرواکر عورتوں جیسے بنوا لیے لیکن اپنا جنسی عضو نہیں کٹوایا۔ مرادنہ خصوصیات کی حامل یہ خاتون ایک مساج سنٹر میں کام کرتی تھی اور سیلویا کا شوہر اس کے حسن کا مداح تھا۔ شوہر کی 60ویں سالگرہ آنے پرسیلویا نے اسے انوکھا تحفہ دینے کا فیصلہ کیا اور جینیفر سے رابطہ کرکے اسے اپنے شوہر کے ساتھ جنسی تعلق استوار کرنے کی پیشکش کی جو جینیفر نے قبول کر لی۔

 

سالگرہ کے روز طے شدہ مقام پر جینیفر اور سیلویا کے شوہر کی ملاقات ہوئی۔ سیلویا کے شوہر نے جینیفر کو ہوس کا نشانہ بنایا لیکن کہنے لگا کہ میں مطمئن نہیں ہوا،اور پھر اس نے جینیفر سے کہا کہ اب وہ اس کے ساتھ بدفعلی کرے۔ جینیفر کو چونکہ سیلویا کہہ چکی تھی کہ ’تم نے میرے شوہر کو مطمئن کرنا ہے کیونکہ وہ تم سے محبت کرتا ہے۔‘ چنانچہ جینیفر نے اس شخص کے ساتھ بدفعلی شروع کر دی۔ اسی دوران اس بدبخت شخص کو ہارٹ اٹیک آیا اور اس کی موت واقع ہو گئی۔ اب کیا تھا،سیلویا کے شوہر کا جسم ٹھنڈا ہوکر سکڑجانے کی وجہ سے جینیفر چمٹ کر رہ گئی۔ اس نے سیلویا کو فون کیا اور صورتحال بتائی۔ سیلویا نے پولیس، ایمبولینس اور ریسکیو کو فون کرکے بلا لیا۔ دونوں کو اسی حالت میں ہسپتال لیجایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں الگ کیا۔ اس دوران جینیفر کا عضو فریکچر ہو گیا۔ اب اس نے سیلویا کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا ہے۔ اس نے عدالت میں درخواست دائر کی ہے کہ یہ سب سیلویا کی وجہ سے ہوا ہے لہٰذااسے 20ہزار ڈالر(تقریباً20لاکھ روپے) ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

ملائیشیا میں ہندوﺅں کو بھارت کی مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں

ملائیشیا میں ہندوﺅں کو بھارت کی مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں

کوالالمپور: ذاکر نائیک گزشتہ 3 سالوں سے ملائیشیا میں رہائش پذیر ہیں جبکہ بھارت میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے