مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری

مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ جاری

اسلام آباد :چیف جسٹس ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے تحریری فیصلے میں کہا کہ حق آزادی اظہار رائے دیگر بنیادی حقوق کو بھی تحفظ فراہم کرتا ہے ۔کوئی بھی معاشرہ حق آزادی اظہار رائے کو سلب کر کے ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا

کسی بھی انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار بے خوف و خطر کرے۔
عدالت نے فیصلے میں کہاآزادی اظہار رائے کسی دوسرے کےخلاف نفرت انگیز تقریر کی صورت اختیار نہیں کرنی چاہیئے ۔ اظہار رائے کو سلب کرنا معاشرے کو دبانے، شدت پسندی کو فروغ اور قانون کی حاکمیت کو ختم کرنے کے مترادف ہے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ صحافی کے خلاف جرم پر بھی دہشتگردی کی دفعات لگتی ہیں۔ایف آئی آر میں دہشتگردی کی دفعات شامل کیوں نہیں کی گئیں۔کیا تاثر ملے گا کہ پولیس کی وردی میں لوگ دندناتے پھررہے ہیں ۔جس نے بھی صحافی کا آغوا کیا وہ باقیوں کو ڈرانا چاہتا ہے۔ پولیس کے ہوتے ہوئے یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔وفاقی حکومت کو آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا چاہیے ۔

یہ بھی پڑھیں

سی ڈی اے کوتعمیرات کی ریگولرائز یشن کاعمل شفاف بنانے کاحکم دے دیا

سی ڈی اے کوتعمیرات کی ریگولرائز یشن کاعمل شفاف بنانے کاحکم دے دیا

اسلام آباد: جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیزکیلئےاپنا سیورج پلانٹ لگانے کی شرط …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے