ایک خاص ہارمون استعمال کرتے ہوئے کووِڈ 19 کاعلاج

ایک خاص ہارمون استعمال کرتے ہوئے کووِڈ 19 کاعلاج

لندن: سائنیئرجن‘‘ نامی بایوٹیکنالوجی فرم کے وضع کردہ اس طریقہ علاج کو ’’ایس این جی 001‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس کا انحصار ’’انٹرفیرون بی-ٹا‘‘ نامی ہارمون پر ہے

قدرتی طور پر انسانی جسم میں پایا جاتا ہے جو بیماریوں کے خلاف لڑنے والے، ہمارے مدافعتی نظام کو مستحکم بناتا ہے۔
البتہ یہی ہارمون بعض امراض میں انجکشن کے ذریعے بھی مریض کے جسم میں داخل کرکے بطور دوا استعمال کیا جاتا ہے۔
سائنیئرجن کے طریقہ علاج میں ’’انٹرفیرون بی-ٹا‘‘ کو محلول کی شکل دی گئی جسے بخارات میں تبدیل کرکے، سانس کے ذریعے مریضوں کے پھیپھڑوں تک براہِ راست پہنچایا گیا۔
تین ماہ تک جاری رہنے والے ان تجربات سے معلوم ہوا کہ کووِڈ 19 کے جن مریضوں نے ’’اصلی‘‘ انٹرفیرون بی-ٹا استعمال کیا تھا، ان میں یہ بیماری شدید تر ہونے کا امکان ’’نقلی‘‘ (پلاسیبو) انٹرفیرون بی-ٹا استعمال کرنے والے مریضوں کے مقابلے میں 79 فیصد تک کم تھا۔
انٹرفیرون بی-ٹا استعمال کرنے والے مریض، دیگر مریضوں کے مقابلے میں جلدی اور مکمل طور پر صحت یاب بھی ہوگئے۔
یہ تجربات برطانیہ کے مختلف اسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں پر کیے گئے جنہوں نے بطور رضاکار ان آزمائشوں میں شریک ہونے کی منظوری دی تھی۔
اس تحقیق کا مثبت پہلو یہ ہے کہ انٹرفیرون قسم کے ہارمونز برسوں سے علاج معالجے میں استعمال کیے جارہے ہیں۔ قرینِ قیاس ہے کہ ’انٹرفیرون بی-ٹا‘ جب بخارات کی شکل میں پھیپھڑوں تک براہِ راست پہنچتا ہے، تو ان میں جذب ہو کر یہ ناول کورونا وائرس کے خلاف ان کی قوتِ مدافعت کو مضبوط بناتا ہے۔
سائنیئرجن نے اپنی کامیابی کا اعلانکی شکل میں کیا ہے۔ اگرچہ اس کی تائید بعض دوسرے طبی ماہرین نے بھی کی ہے لیکن اب تک یہ نتائج کسی تحقیقی مجلے (میڈیکل ریسرچ جرنل) میں شائع نہیں ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

انسانی صحت کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے 92 فی صد مؤثر ہے

انسانی صحت کو کرونا وائرس سے بچانے کے لیے 92 فی صد مؤثر ہے

ماسکو: ہنگری نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے روس میں تیار کی جانے والی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے