بحریہ ٹاؤن میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں غیر مجاز اور غیر قانونی ہیں

بحریہ ٹاؤن میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں غیر مجاز اور غیر قانونی ہیں

کراچی: بحریہ ٹاؤن کی نئی اسکیم کے خلاف دائر درخواست پر جسٹس خادم حسین شیخ کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نےسماعت کی تو سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی ڈپٹی ڈائریکٹر (ڈیزائن اور شکایت) نے بیان جمع کرایا

ہ پلاٹس کی بکنگ / فروخت کے لیے میڈیا پر ‘بحریہ گرینز’ کی تشہیری مہم شروع کرنے سے قبل بحریہ ٹاؤن نے ایس بی سی او 1979 کے سیکشن 5 کے تحت مطلوبہ این او سی حاصل نہیں کیا گیا تھا۔ اس میں مزید کہا گیا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کی جانب سے اگست 2014 میں 4696.685 ایکڑ اراضی کی اراضی کے لیے ایک پلان جاری کیا گیا تھا اور بحریہ ٹاؤن نے اس کے لیے ایک نظر ثانی شدہ این او سی جاری کرنے کی درخواست دی تھی لیکن پہلے جاری کردہ این او سی کی شرائط پوریی نہ کرنے اس درخواست پر غور نہیں کیا جاسکتا تھا۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر ایجنسیوں کی جانب سے درست منظوریوں / این او سیز کے بغیر کثیرالمنزلہ عمارتوں/ بنگلوں کی تعمیر اور اس منصوبے کی ترقی جاری رکھی اور اب اس معاملے پر قومی احتساب بیورو( نیب) حکام انکوائری کررہے ہیں اور یہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں بھی زیر سماعت ہے۔
14 جنوری،2018 کے فیصلے میں عدالت عظمیٰ نے چھ منزلوں سے زیادہ کی تعمیر پر پابندی عائد کردی تھی جو بحریہ ٹاؤن کراچی پر بھی لاگو کی گئی تھی، جبکہ مئی 2018 کے اپنے ازخود نوٹس کے حکم میں سپریم کورٹ نے ہدایت بھی کی تھی کہ منصوبے کے الاٹیز اپنی اقساطکراچی رجسٹری میں ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے کھولے گئے خصوصی اکاؤنٹ میں جمع کروائیں۔ بیان میں کہا گیا کہ چونکہ ایس بی سی اے کے جانب سے کسی تعمیراتی منصوبے کی منظوری نہیں دی گئی لہذا سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے نقطہ نظر سے بحریہ ٹاؤن میں تمام تعمیراتی سرگرمیاں غیر مجاز اور غیر قانونی ہیں۔
21 مارچ 2019 کو سابق جج شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں تین ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے بحریہ ٹاؤن کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے 4 مئی 2018 کے فیصلے کے تحت پیش کی جانے والی 460 ارب روپے کی پیش کش کو منظور کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے) کو سندھ حکومت کی طرف سے دی گئی اراضی کی گرانٹ، بحریہ ٹاؤن کی اراضی کے ساتھ اس کا تبادلہ اور سندھ حکومت کی جانب سے کالونائزیشن آف گورنمنٹ لینڈ ایکٹ 1912 کی دفعات کے تحت غیر قانونی تھا اور اس کا کوئی قانونی وجود نہیں تھا۔
فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ زمین انکریمنٹ ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے کے لیے دی گئی تھی تاہم ایم ڈی اے نے اسے بحریہ ٹاؤن کی اسکیم کے ساتھ بدل دیا تاکہ وہ اپنی اسکیم شروع کرسکے۔
یہ تصفیہ بحریہ ٹاؤن کراچی منصوبے سے متعلق ہے جو 16 ہزار 896 ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور وال چاکنگز ختم کرنا شروع

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور وال چاکنگز ختم کرنا شروع

کراچی: ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ویسٹ عاصم خان قائمخانی کا کہنا ہے کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے