کیوں نہ این ڈی ایم اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں

کیوں نہ این ڈی ایم اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں

اسلام آباد: سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ چین سے الحفیظ کے نام سے مشینری درآمد کی گئی، اس کے دستاویزات کہاں ہیں گزشتہ 3 سماعتوں سے دستاویزات مانگے جا رہے ہیں، الحفیظ کیا ہے؟ کون ہے؟

جسٹس اعجازالاحسن نے سوال کیا کہ جو مشینری چائنا سے درآمد کی گئی اس کی قیمت کس نے ادا کی؟ جہاز چارٹرڈ کرنے اور اس کی ادائیگیوں کی تفصیلات کہاں ہیں؟ اس پر ڈائریکٹر ایڈمن این ڈی ایم اے نے بتایا کہ ایل سی کمپنی نے خریدی ہے اور کسٹم کو ڈیوٹی دی ہے، کمپنی کی مشینری این ڈی ایم اے نے امپورٹ نہیں کی۔
نمائندہ این ڈی ایم اے کے جواب پر چیف جسٹس نے کہا کہ ابھی تک کمپنی کا مالک سامنے نہیں آسکا، اصل مسئلہ کسٹم اور دیگر قوانین پر عمل نا ہونا ہے، عدالتی احکامات کو سنجیدہ تک نہیں لیا، کیوں نہ این ڈی ایم اے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کریں، ہم یہاں وضاحت کیلئے نہیں بیٹھے، وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ چیئرمین این ڈی ایم اے کو ہٹادیں کیونکہ عدالتی احکامات کی تضحیک کی گئی، ایک ہی کمپنی کو کیسے رعایت دی گئی، ہم وزیراعظم کو کہہ دیتے ہیں کہ سارا این ڈی ایم اے فارغ کردیں اور کسی کو ایک پیسہ بھی نہیں کھانے دیں گے۔
جسٹس گلزار نے ریمارکس دیے کہ یہ عدالت کے ساتھ مذاق ہے، این ڈی ایم اے کو معلوم ہی نہیں عدالت کے ساتھ کیسے چلنا ہے، ایک کروڑ7 لاکھ 25 ہزار اس کو ادا کیے گئے جس کو دیے ہی نہیں جاسکتے تھے، کسٹم ڈیوٹی بھی کیش میں ادا کی گئی، چین میں جس کمپنی نے مال بھیجا ہوگا اس کو بھی کیش میں ادائیگی کی گئی ہوگی کیونکہ اس کا نام اس میں لکھا ہے، کوئی ضرور اس میں گڑبڑ کررہا ہے، سپریم کورٹ سے چھپایا جارہا ہے، این ڈی ایم اے نے ڈریپ کی اجازت سے باہرسے ویکسین درآمد کای، یہ کس نے درآمد کی، نہیں بتایا گیا۔
عدالت نے اٹارنی جنرل سے سوال کیا کہ ویکسین کی درآمد کے کاغذات کہاں ہیں؟ ویکسین کی تحویل میں لینے کا تمام ڈیٹا فراہم کرنا تھا، وہ ویکسین کہاں گئی؟
جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے نے صرف 4 کاغذ لگا کر جان چھڑانے کی کوشش کی۔
عدالت نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ بھی مسترد کردی جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ سمجھ نہیں آرہا کہ این ڈی ایم اے اربوں روپے کیسے خرچ کررہا ہے، این ڈی ایم اے کے ممبر ایڈمن کو خود کچھ معلوم نہیں، این ڈی ایم اے ٹڈی دل کیلئے جہاز اور مشینری منگوا رہا ہے، صرف زبانی نہیں دستاویزات سے شفافیت دکھانی پڑے گی، کراچی میں اتنا کیش کوئی کیسے دے سکتا ہے، لگتا ہے ہمارے ساتھ کسی نے بہت ہوشیاری اور چالاکی کی ہے، ویکسین اور ادویات کی امپورٹ کی دستاویز کہاں ہیں؟
کورونا، سیلاب، ٹڈی دل اور سب کچھ این ڈی ایم اے کو سونپا گیا ہے، این ڈی ایم اے کو فری ہینڈ اوربھاری فنڈز دیے گئے تاکہ کورونا سے لڑا جاسکے، این ڈی ایم اے عدالت اور عوام کو جوابدہ ہے۔
اٹارنی جنرل صاحب کیا تماشہ چل رہا ہے، لگتا ہے این ڈی ایم اے کو ہی ختم کرنا پڑے گا، این ڈی ایم اے کو ختم کرنے کیلئے وزیراعظم کو سفارش کردیں؟ 3 بار نوٹس کرچکے، این ڈی ایم اے وضاحت کرنے میں ناکام رہا، کیا چیئرمین این ڈی ایم اے کو توہین عدالت کا نوٹس کردیں؟
اس پر اٹارنی جنرل نےکہا کہ متعلقہ حکام کو عدالت کو مطمئن کرنا ہوگا، این ڈی ایم اے کے لوگ عدالت میں موجود ہیں۔
اٹارنی جنرل نے این ڈی ایم اے کا جمع کرایا گیا جواب واپس لینے کی استدعا کردی اور کہا کہ دستاویز سمیت جامع جواب جمع کرائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

نیپرا بجلی کے نرخوں میں ایک روپے 62 پیسے اضافے کی منظوری

اسلام آباد: نیپرا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ریگولیٹر کے نئے نرخ وفاقی حکومت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے