نقیب اللہ قتل کیس پر سماعت ہوئی

نقیب اللہ قتل کیس پر سماعت ہوئی

کراچی: شہزادہ جہانگیر نے کہا کہ اس سے قبل بھی میں یہ بیان ریکارڈ کرا چکا ہوں، عابدقائمخانی نےمجھےاپنی مرضی کابیان دینے کے لئے پریشر دیا اور میرے انکار پر مجھےغیر قانونی حراست میں رکھا

عدالت کے روبرو گواہوں شہزادہ جہانگیر اور آصف نے اہم بیان قلمبند کرایا، گواہ شہزادہ جہانگیرنے بتایا کہ میں جب پہنچا تھا تو مقابلہ ہوچکا تھا، ایس ایچ آوٴ کے کہنے پر مقابلے کے روز میں نے صرف فرد بنائی، مجھے عابد قائمخانی نے 17 فروری 2018 کو اپنے دفتر بلوایا، عابد قائمخانی کے پاس جانے کا اندراج روزنامچہ میں بھی ہے۔
گواہ نے بیان میں کہا کہ مجھ پر11،12دن تک دباؤڈالااور کہاکہ ان کیخلاف بیان دو، بہت مجبورہوگیا تو میں نے ان کے کہنے پر بیان دیدیا، اس کے بعد جب گھرآیا تو دیکھا مستقل4 پولیس اہلکار گھرپر تعینات کردیےگئے، موقع دیکھ کر میں جب گاؤں گیا تو مجھےاحساس ہواکہ میں نےغلط کیا۔
واپس آنے کے بعد اے ٹی سی 2 کی عدالت میں حلف نامہ جمع کرایا، حلف نامے میں کہا کہ میراپہلابیان سراسرجھوٹ اورزبردستی لیاگیاتھا،
میرا یہ حلف نامہ عدالتی ریکارڈکاحصہ بھی ہے۔
گواہ محمد آصف نے بیان دیتے ہوئے بتایا جوبیان مجھ سے منسوب کیا جارہا ہے وہ میرا نہیں، جس دن مقابلہ ہوااس دن میں ملیر کورٹ میں تھا۔
عدالت نے کہا گواہوں کے بیان پر جرح آئندہ سماعت پرکی جائے گی اور سماعت 28 جولائی تک ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

سی فوڈ ریسٹورنٹس نے حکومت سندھ کی کورونا ایس اوپیز کو مذاق بنادیا

سی فوڈ ریسٹورنٹس نے حکومت سندھ کی کورونا ایس اوپیز کو مذاق بنادیا

کراچی: رات گئے تک ان سی فوڈ کے ریسٹورنٹس پر شہریوں کارش نظر آتا ہے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے