جامعہ کراچی 1300 ایکڑ اراضی میں سےساڑھے 3 ایکڑ زمین دیگر سرکاری و نجی اداروں کے تصرف یا پھر قانونی چارہ جوئی میں جاچکی

جامعہ کراچی 1300 ایکڑ اراضی میں سےساڑھے 3 ایکڑ زمین دیگر سرکاری و نجی اداروں کے تصرف یا پھر قانونی چارہ جوئی میں جاچکی

کراچی: ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس3ایکڑ سے زائد اراضی میں سے تقریبا 26 ہزار گز کی اراضی پر پیپلز پارٹی کے رہنما سردار نبیل احمد گبول بھی دعویدار بن گئے ہیں

2019 میں کیا گیا آخری مقدمہ بھی سردار نبیل گبول کے دعوے کے حوالے سے ہے تاہم اہم بات یہ ہے کہ موجودہ انتظامیہ کے دور میں اب تک یونیورسٹی کی کسی اراضی پر غیر متعلقہ حکام کا قبضہ رپورٹ نہیں ہوا۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ جامعہ کراچی کی اسٹیٹ افسر نے یونیورسٹی سنڈیکیٹ کو جامعہ کراچی کی اراضی کے حوالے سے جو تفصیلات پیش کی ہیں وہ 2014 میں سابق اسٹیٹ افسر نعیم الرحمن کی ایک رپورٹ پر مشتمل ہیں جسے اب 2020 میں پیش کیا جارہا ہے اور اراضی کی تفصیلات کے حوالے سے کوئی نئی اسٹڈی کرکے رپورٹ مرتب نہیں کی گئی۔
اس 2014 کی رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کے پاس یونیورسٹی روڈ پر 19 ایکڑ سے زائد اراضی اراضی ہے جبکہ یہ بات جامعہ کراچی کی زمینوں کا ریکارڈ مرتب کرنے والے دفاتر میں واضح ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر موجود جامعہ کراچی کی اراضی 7.2 ایکڑ ہے تاہم موجودہ اسٹیٹ افسر نے پرانی رپورٹ کا سہارا لیتے ہوئے اسے 19 ایکڑ سے زائد بتایا ہے اور یونیورسٹی روڈ پر کل اراضی کی پیمائش سے متعلق رپورٹ اراکین سنڈیکیٹ کو پیش کی جارہی ہے۔
بات یہی نہیں رکی بلکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے جامعہ کراچی کی کل اراضی 1279 ایکڑ ظاہر کی ہے جو 1954 میں جامعہ کراچی کو دی گئی تھی تاہم 1964 میں این ای ڈی یونیورسٹی کے قیام کے وقت این ای ڈی اور اسی اثنا میں ڈالمیا گروپ سے بھی exchange of land کی گئی جس کے بعد اب دستاویزات کی روشنی میں جامعہ کراچی کی مجموعی اراضی تقریبا ساڑھے 13 سو ایکڑ بتائی جاتی ہے تاہم اسٹیٹ آفس کے موجودہ افسران و ملازمین اس حقیقت سے نا آشنا ہیں اور سینڈیکیٹ کو جامعہ کراچی کی ارضی میں 70 ایکڑ سے زائد کی کمی کرکے بتایا جارہا ہے۔
ساڑھے 13 سو کے بجائے 1279 ایکڑ رقبہ ظاہر کرنے پر یونیورسٹی کی اسٹیٹ افسر نسرین شارق سے رابطہ کیا تو اس بات کو ہی یکسر مسترد کردیا کہ کسی بھی قسم کی رپورٹ ان کے دفتر کی جانب سے سنڈیکیٹ میں شامل کرنے کے لیے حکام کو بھجوائی گئی ہے۔
رپورٹ لیگل ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بھجوائی گئی ہوگی جس پر انھیں بتایا گیا کہ رپورٹ کے ساتھ رجسٹرار کا کورنگ لیٹر موجود ہے جس میں اسٹیٹ آفس کا ذکر ہے جس پر وہ کوئی معقول جواب نہ دے سکیں۔
اسٹیٹ آفس کی جانب سے لیگل ڈپارٹمنٹ کی منسلک کی گئی رپورٹ کے مطابق جامعہ کراچی کی اس زمین پر قائم مقدمات کا یہ سلسلہ 20 برس قبل 1999 سے شروع ہوا ہے اور آخری مقدمہ 2019 میں کیا گیا ہے، قابل ذکر امر یہ ہے کہ متعلقہ اراضی پر 1999 کے بعد 2010 سے مقدمات کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوتا ہے اور 2015 تک مسلسل ہر سال مختلف سرکاری و نجی اداروں کے خلاف مقدمات شروع ہورہے ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یونیورسٹی روڈ پر موجود جامعہ کراچی کی زمین پر سب سے زیادہ قبضہ اسی 6 سالہ دور میں کیا گیا ہے۔
سرکاری سطح پر “کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ” KW&SB کے علاوہ “سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی ” CDGK بھی فریق ہے، کے ڈبلیو اینڈ ایس بی جامعہ کراچی کی 200 اسکوائر یارڈ اراضی جبکہ سی ڈی جی کے 1425 اسکوائر یارڈ اراضی پر دعوی دار ہے جامعہ کراچی کے سامنے یونیورسٹی روڈ پر یونیورسٹی کی جس 3 ایکڑ سے زائد اراضی لیٹیگیشن میں ہے۔
اسٹیٹ آفس کی پرانی اور متروک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی روڈ پر موجود جامعہ کراچی کی کل اراضی 19.807 ایکڑ کا حصہ ہے جسے” یونیورسٹی آف کراچی pillar no 1 to 21 سے شناخت کیا جاتا ہے ان پلرز میں 1 سے 3، 9 سے 10، 11 سے 12 ، 14 سے 15 اور 16 سے 17 لیٹیگیشن میں جاچکے ہیں اور کل لیٹیگیشن ایریا 16482 اسکوائر یارڈ یا 3.405 ایکڑ پر محیط ہے۔

یہ بھی پڑھیں

لی مارکیٹ میں عوام کیلئے سہولیات سے لیس نئے بیت الخلا قائم

لی مارکیٹ میں عوام کیلئے سہولیات سے لیس نئے بیت الخلا قائم

کراچی: بیت الخلا دو خواتین کے لیے اور دو مردوں کے لیے پاکستان کے پہلے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے