خان صاحب کا ساتھ چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

خان صاحب کا ساتھ چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

کراچی: عامر لیاقت نے ٹوئٹر پر اپنے ایک تازہ پیغام میں کہا کہ ’میں اعتراف کرتا ہوں میں کراچی کا ایک بے بس ایم این اے ہوں۔۔۔ اپنے شہر کے لوگوں کو بجلی فراہم کروانے سے قاصر ہوں۔۔۔ مجھ سے کراچی اور بالخصوص اپنے حلقے کے لوگوں کا تڑپنا سسکنا۔۔۔نہیں دیکھا جاتا۔۔۔ وزیراعظم سے وقت مانگا ہے مل کر انہیں استعفی پیش کردوں گا‘

اس پر ان کے مداح فوراً مشوروں کے ساتھ اس تھریڈ میں کود پڑے تاہم تنقید کرنے والوں کی بھی کمی نہیں۔ کوئی انہیں فیصلے سے پہلے اچھی طرح سوچنے کا مشورہ دے رہا تھا تو کوئی اسے محض ’ڈرامے بازی‘ قرار دے رہا تھا۔
ایم علی نامی ایک صارف نے کہا کہ ’سر پلیز جو بھی فیصلہ کریں گے سوچ سمجھ کر کریے گا ہم ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ ہیں مگر کچھ بھی ہو جائے خان صاحب کا ساتھ نہیں چھوڑنا، ہم نے مافیا سے آخر تک لڑنا ہے۔‘
عامر لیاقت نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’خان صاحب کا ساتھ چھوڑنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وقاص امجد کا کہنا تھا کہ ’استعفیٰ دینے سے کیا ہوگا؟؟؟ سسٹم میں رہ کر ہی سسٹم بدلنا ہوگا۔۔‘
جاوید فضلانی نے لکھا کہ ’یہ کرسی بڑی ظالم ہے عامر صاحب ۔۔۔۔۔چلیے دیکھتے ہیں۔ آپ میں کتنا دم ہے فیصلہ کرنے کا۔‘
اویس حیدر نے لکھا کہ ’ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔! آپ ہم سے بہتر جانتے ہیں کہ کیا ہورہا ہے، اور کیا کرنا چاہیے، ہم جانتے ہیں کہ آپ بے بس ہیں اور کیوں ہیں یہ بھی جانتے ہیں۔ کے الیکٹرک کے معاملے میں صرف آپ ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی بے بس ہے۔ اس مافیا کو لگام دیجیے خان صاحب سے مل کر، استعفیٰ نہیں۔۔۔۔
دوسری طرف ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے اس ٹویٹ کو محض ’ڈرامے بازی‘ قرار دیا اور عامر لیاقت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
خلیل حسن نامی صارف نے انہیں ماضی کی یاد دلاتے ہوئے مشورہ بھی دیا کہ ’یہ درست طریقہ نہیں ہے۔ آپ اپنی ذات کی خاطر پارٹی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔آپ کو شاید علم نہ ہو کہ آپ کو ٹکٹ دینے کے بارے میں پارٹی میں آپ کی شدید مخالفت تھی۔ کراچی کے کچھ ممبران نے لڑلڑ کر آپ کی نامزدگی کروائی۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کے بغیر آپ کوئی الیکشن اب جیت نہیں سکتے۔‘
جب 2018 میں عامر لیاقت حسین نے عمران خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ‘میرا آخری مقام پی ٹی آئی تھا۔’
ان کو ٹکٹ دینے کے فیصلے پر اُس وقت سوشل میڈیا پر پی ٹی آئی کے کئی کارکنان نے اعلانیہ اس فیصلے کے خلاف نہ صرف اظہارِ رائے کیا بلکہ کچھ نے تو پارٹی کے ساتھ اپنے تعلق کو ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔
جولائی 2007 میں عامر لیاقت حسین نے قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا یہ استعفیٰ اس وقت سامنے آیا جب انھوں نے انڈین مصنف سلمان رشدی کو ٹی وی پروگرام میں ’واجب القتل‘ قرار دیا تھا۔ اگلے سال یعنی 2008 کو ایم کیو ایم نے عامر لیاقت کو پارٹی سے نکالنے کرنے کا اعلان کیا تھا۔
عامر لیاقت حسین نے ایک بڑے عرصے تک سیاست سے کنارہ کشی اختیار کی اور 2016 میں ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین کی متنازع تقریر سے چند روز قبل وہ دوبارہ سرگرم ہوئے۔ جب رینجرز نے ڈاکٹر فاروق ستار اور خواجہ اظہار الحسن کو حراست میں لیا تو عامر لیاقت کو بھی اسی روز گرفتار کیا گیا تھا اور رہائی کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی پہلی پریس کانفرنس میں وہ بھی موجود تھے لیکن بعد میں دوبارہ غیر متحرک ہوگئے۔
عامر لیاقت حسین کی تحریک انصاف میں شمولیت کی خبریں 2017 میں سامنے آئی تھیں۔ ان کی اپنی ٹویٹس کے باوجود اعلان سامنے نہیں آیا تھا مگر بالاخر وہ پارٹی میں شامل ہوگئے تھے۔
پارٹی میں شمولیت کے وقت بھی عامر لیاقت کو پی ٹی آئی کے کچھ حامیوں کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اب جب انھوں نے استعفی دینے کی بات کی تو ایک صارف نے اپنے رائے کچھ یوں بیان کی:
عاصیمہ جاوید نے لکھا کہ ’اچھا ہوگا اگر آپ پی ٹی آئی کی جان چھوڑ دیں۔ ڈاکٹر صاحب کا ایک ہی مسئلہ ہے اور وہ وزارت۔ یہ کراچی کے لوگوں کی ہمدردی کے لیے نہیں بلکہ وزارت کے لیے دھمکیاں دے رہا ہے۔ اس دفعہ ہمت کر ہی لیں آپ استعفی دینے کی۔۔ جو کرنی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نورِ حق کراچی میں پریس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے