واشنگٹن: مشہور ہبل خلائی دوربین کی مدد سے دنیا کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت

واشنگٹن: مشہور ہبل خلائی دوربین نے زمین سے بہت دور این جی سی 4889 میں تاریخ کا سب سے بڑا بلیک ہول دریافت کیا ہے جو سورج سے 21 ارب گنا بڑا ہے۔  

ہبل دوربین نے کوما کلسٹر( جھرمٹ) میں یہ بلیک ہول دریافت کیا ہے جو زمین سے 30 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ اتنا بڑا ہے کہ اس کا قطر کم ازکم 130 ارب کلومیٹر ہے یعنی نظامِ شمسی کے سیارے نیپچون سے لے کر سورج تک کے 15 چکر لگائے جائیں تو یہ فاصلہ بنے گا۔ مشاہدے کے وقت یہ بلیک ہول کوزار ( کوسی اسٹیلر ریڈیو سورس) کےدرجے میں تھا اور یہ کہکشاں سے مجموعی طور پر ہزاروں گنا زائد توانائی خارج کرتا ہوا نوٹ کیا گیا۔

اگرچہ بلیک ہول کو براہِ راست دیکھنا اور اس کی تصویر لینا مشکل ہوتا ہے لیکن ماہرین نے کچھ تصاویر بھی جاری کی ہیں۔ عموماً کسی سیارے یا ستارے کو کسی نادیدہ خلائی جسم سے ردِ عمل کو دیکھتے ہوئے ہی بلیک ہول کی پیش گوئی اور دیگر تفصیلات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس کی دیگر شناخت کےلیے کیک ٹو اور جیمنائی دوربینوں کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس بلیک ہول کی اطراف موجود روشن ستاروں کی رفتار کو دیکھتے ہوئے بلیک ہول کی عظیم جسامت اور موجودگی کا پتا لگایا گیا ہے اور مہینوں کے اندازے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ اب تک دریافت ہونے والا سب سے بڑا بلیک ہول ہے۔

یہ بھی پڑھیں

ورالئر نامی یہ دوا سنہ 2015 میں بالغ افراد میں شیزو فرینیا کے علاج کے لیے منظور کی گئی

ورالئر نامی یہ دوا سنہ 2015 میں بالغ افراد میں شیزو فرینیا کے علاج کے لیے منظور کی گئی

امریکا : اب ان کی ریسرچ کے کامیاب نتائج کو دیکھتے ہوئے ایف ڈی اے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے