پاکستان نیوی کو راول ڈیم پر ان مقاصد کے لیے کوئی جگہ الاٹ نہیں کی گئی

پاکستان نیوی کو راول ڈیم پر ان مقاصد کے لیے کوئی جگہ الاٹ نہیں کی گئی

اسلام آباد: پاکستان بحریہ کی ایک ایگرو فارم سکیم میں پلاٹ کی بروقت الاٹمنٹ نہ ہونے کے باعث عدالت میں مقدمے کی پیروی کرنے والی اسلام آباد کی رہائشی ایک خاتون نے جمعرات کو روال ڈیم کے کنارے نیوی کلب کی صورت میں ہونے والے مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف ایک متفرق درخواست دائر کی جسے سماعت کے لیے منظور کر لیا گیا

پاکستان نیوی راول ڈیم کے کنارے ‘پاکستان نیوی سیلنگ کلب’ کی تعمیر کر رہی ہے جسے حال ہی میں وفاقی ترقیاتی ادارے نے ‘غیرقانونی’ قرار دیا ہے تاہم بحریہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جس جگہ یہ تعمیرات ہو رہی ہیں وہ جگہ پاکستان بحریہ کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے الاٹ کی تھی۔
دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے چیئرمین سی ڈی اے کو ہدایت کی کہ وہ ایک افسر مقرر کریں جو اس جگہ کا معائنہ کرے اور رپورٹ پیش کرے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ سی ڈی اے نے کس اتھارٹی کے تحت یہ جگہ الاٹ کی ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ یہ اہم نوعیت کا کیس ہے اس لیے آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل بھی عدالت کی معاونت کریں۔
درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں تعمیرات کی تصاویر بھی پیش کی گئیں۔
بحریہ کے حکام کا کہنا تھا کہ اس کلب کی منظوری سنہ 1991 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے دی تھی۔
پاکستان بحریہ کے ترجمان نے ’پاکستان نیوی سیلنگ کلب‘ راول ڈیم پر سنہ 1992 سے قائم ہے اور اب اس میں تفریحی مقاصد کے لیے کچھ تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں جس کی وجہ سے سی ڈی اے نے غیر قانونی تعمیرات کا نوٹس بھیجا۔‘
تاہم سی ڈی اے کے حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے ریکارڈ میں پاکستانی بحریہ کو ایسے مقاصد کے لیے کوئی جگہ راول ڈیم کے ساتھ کبھی الاٹ نہیں کی گئی تھی۔
اس کلب کا افتتاح رواں ہفتے کیا گیا ہے اور اس کی رکنیت کو صرف افواج پاکستان کے موجودہ اور ریٹائرڈ ارکان، بیوروکریسی، کاروباری شخصیات اور سفارتکاروں تک محدود رکھا گیا ہے۔
افواج پاکستان کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ممبرشپ فیس دس ہزار، بیوروکریٹس کے لیے ڈیڑھ لاکھ جبکہ تاجروں اور سفارتکاروں کے لیے چھ لاکھ روپے تک ہے۔
13 جولائی کو بھیجے گئے نوٹس کے ذریعے سی ڈی اے نے بحریہ کے حکام کو متنبہ کیا تھا کہ اگر وہ قانون کے مطابق تعمیرات فوری طور پر نہیں روکتے تو پھر وفاقی ترقیاتی ادارے کو حق حاصل ہو گا کہ وہ یہ غیر قانونی تعمیرات گرا دے۔
سی ڈی اے کے حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نیوی کو راول ڈیم پر ان مقاصد کے لیے کوئی جگہ الاٹ نہیں کی گئی ہے اور جو تعمیرات کی گئی ہیں وہ سب غیر قانونی ہیں۔
سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں بھی پاکستان نیوی کو متعدد بار نوٹس بھیجے گئے مگر انھوں نے غیر قانونی تعمیرات نہیں روکیں اور اب اس کلب کا کاروباری مقاصد کے لیے افتتاح کر دیا گیا۔
بلڈنگ سیکشن کے مطابق اگر پاکستان نیوی اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹتی تو پھر قانون کے مطابق سی ڈی اے اسلام آباد انتظامیہ سے مدد طلب کرے گی اور پولیس کی نفری کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات کو گرا دیا جائے گا۔
اسلام آباد پولیس پاکستان نیوی کے خلاف آپریشن میں حصہ لے گی؟ اس سوال کے جواب میں سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ قانون میں تو یہی لکھا ہے کہ وہ غیرقانونی کام کے خلاف ادارے کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔
ترجمان سی ڈی اے مظہر حسین نے بتایا تھا کہ اس معاملے پر ابھی گفت و شنید ہو رہی ہے اور سی ڈی اے قانون کے مطابق اس کا حل تلاش کرے گی۔
بحریہ کے مطابق بحری افواج کبھی بھی غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات پر یقین نہیں رکھتی۔
ان کے مطابق اسلام آباد میں یہ ایک ’ڈائیونگ فسیلِیٹی‘ قائم کی گئی تھی تاکہ یہاں پیشہ ورانہ مقاصد کے حصول کے لیے کام کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کلب کا نام ’نیشنل سیلنگ کلب راول لیک‘ رکھا گیا ہے اور اس جگہ موجود نیوی کے اہلکار ہنگامی حالات میں گلگت بلتستان تک ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کے لیے جاتے رہے ہیں اور مصیبت میں گھری درجنوں قیمتی انسانی جانیں بچائی گئی ہیں۔
اس سے قبل بھی پاکستان نیوی نے سی ڈی اے چیئرمین عامر احمد علی کو تفصیل سے لکھ کر بھیجا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں یہ جگہ پاکستان نیوی کو الاٹ کی گئی تھی۔
ان کے مطابق اس جواب کے بعد سی ڈی اے نے خاموشی اختیار کر لی تھی اور پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ اس کلب کی بہتری کے لیے نیوی اپنا کام جاری نہ رکھتی۔
کلب کی رکنیت کھولنے کا مقصد کوئی تجارت یا مالی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ایسا کلب کی بہتری کے لیے کیا گیا۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ سویلینز کے لیے اس کلب کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔
یہ رکنیت بالکل بھی امتیازی نہیں ہے بلکہ آگے چل کر عام شہری بھی اس کلب سے مستفید ہو سکیں گے۔ ان کے مطابق افواج پاکستان کو تو کنٹونمنٹ علاقوں کے اندر بھی تمام سہولیات حاصل ہوتی ہیں۔ بحریہ ترجمان کے مطابق اس وقت سی ڈی اے سے مذاکرات چل رہے ہیں اور تمام امور کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے گا۔
سی ڈی اے ترجمان نے بھی اس حوالے سے اعلیٰ سطحی رابطوں کی تصدیق کی ہے۔
راول ڈیم پر کلب نہ صرف ایک غیر قانونی تعمیر ہے بلکہ یہ ماحولیات کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس ڈیم سے راولپنڈی کے باشندوں کو پانی کی فراہمی کی جاتی ہے۔
وفاقی ترقیاتی ادارے کے پلاننگ، بلڈنگ اور ماحولیات کے شعبوں نے پاکستان نیوی کے اس منصوبے کو ہر لحاظ سے دارالحکومت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں

26نومبر سے 24دسمبر تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کااعلان

26نومبر سے 24دسمبر تک پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند کرنے کااعلان

اسلام آباد: بین الصوبائی وزرائےتعلیم کااجلاس کے بعد وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور معاون …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے