اس مجسمے کو اس ستون پر رکھنے کے لیے باضابطہ اجازت نہیں لی گئی ہے

اس مجسمے کو اس ستون پر رکھنے کے لیے باضابطہ اجازت نہیں لی گئی ہے

برطانیہ : تاجر ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کی جگہ بلیک لائیوز میٹر مہم میں شامل ایک خاتون کا مجسمہ گذشتہ روز غیر سرکاری طور پر نصب کیا گیا تھا تاہم اب شہر کے حکام نے اسے بھی ہٹا دیا ہے

مجسمے کو نصب کیے جانے کے 24 گھنٹوں بعد ہی جمعرات کی علی الصبح برسٹل سٹی کونسل کے عملے نے ہٹا دیا۔ اس سلسلے میں برسٹل کے مئیر ماروِن ریس کا کہنا ہے کہ اس مجسمے کو اس ستون پر رکھنے کے لیے باضابطہ اجازت نہیں لی گئی ہے۔
جمعرات کو انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’سٹی کونسل نے اس مجسمے کو ہٹا دیا ہے اور اسے عجائب گھر میں رکھا جائے گا جب تک کہ اس کو بنانے والے آرٹسٹ اسے واپس نہیں لے جاتے یا ہمیں عطیہ نہیں کر دیتے۔
بدھ کو ٹویٹ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں ’عوام اظہار رائے چاہتی ہے تاہم اس کے نصب کرنے کی باقاعدہ اجازت نہیں لی گئی اور یہ شہریوں کی مرضی ہے کہ وہ کولسٹن کے مجسمے کے مقام ہر کیا رکھنا چاہتے ہے۔
بدھ کو علی الصبح شہر کے وسط میں کالے سیال سے بنے جین ریڈ کا مجسمہ جسے ’طاقت کے سفر‘ کا نام دیا گیا ہے نصب کیا گیا تھا۔
اس مجسمے کو بنانے والے آرٹسٹ مارک کوئن کا کہنا تھا کہ اس مجسمے کو عارضی طور پر نصب کرنے کا مقصد یہ تھا کہ نسل پرستی کے بارے میں جو گفتگو شروع ہوئی ہے اسے جاری رکھا جائے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کتنی دیر تک برقرار رہے گا ’ایک مہینے تک رہ سکتا ہے، یا ایک سال تک رہ سکتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ وہاں ہمیشہ کے لیے رہے گا۔۔ میرا خیال تو یہ ہی ہے۔‘
انھیں سات جون کو بلیک لائیوز میٹر کے احتجاج کے دوران اس مجسمے کو بنانے کا خیال اس وقت آیا جب اپنا ہاتھ بلند کیے جین ریڈ اس مقام پر کھڑی ہوئیں اور اس لمحے نے انھیں متاثر کیا۔ اس کے بعد انھوں نے سوشل میڈیا کے ذریعے جین ریڈ سے رابطہ کیا اور انھوں نے مجسمے پر مل کر کام کیا۔
ان کا کہنا تھا ’میں نے جین کو اس ستون پر دیکھا اور ان کا بے ساختہ کیا گیا اشارہ مجھے متاثر کن لگا۔ انھوں نے صرف ایسا کر کے ایک غیر معمولی فن پارے کو حقیقت بنایا ہے اور اسے کسی صورت میں پیش کرنے کی ضرورت تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ عوامی مقام پر ہونا چاہیے تھا اور میں چاہتا تھا کہ جہاں ایڈورڈ کولسٹن کا مجسمہ پہلے تھا اسے اُس ہی مقام پر رکھوں۔
جین ریڈ نے مجسمے بنائے جانے کے بارے میں بتایا کہ ’میرے شوہر نے احتجاج کے دن تصویر کھینچ کر اپنے سوشل میڈیا پر ڈال دی تھی۔ مارک کوئن نے ان کو پیغام بھیجا جس کے بعد مجھ سے اُن کا رابطہ ہوا۔‘ جین نے مزید یہ بھی بتایا کہ ’میں اس کے بعد اُن کے سٹوڈیو گئی جہاں 201 کیمروں نے ہر زاویے سے میری تصاویرکھینچیں۔ ان کے ذریعے تھری ڈی پرنٹ کیا گیا اور مجسمہ بنایا گیا۔‘
جین ریڈ نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ برسٹل کے لوگ واقعی اس کے یہاں نصب کیے جانے کی قدر کرتے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ یہ مجسمہ اہم تھا کیونکہ اس سے نسلی مساوات اور انصاف حاصل کرنے کی مہم کو آگے بڑھنے میں مدد ملے گی۔
’جب میں وہاں ستون پر کھڑی تھی اور بلیک پاورسیلوٹ کرنے کے لیے اپنا بازو اٹھایا تو یہ بالکل اچانک بلا ارادہ تھا۔ میں نے اس کے بارے میں سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ اس طرح تھا جیسے مجھ میں سے بجلی گزر رہی ہو۔‘
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ مجسمہ میری والدہ، میری بیٹی اور مجھ جیسے سیاہ فام افراد کے ساتھ یک جہتی دکھانے کے بارے میں ہے۔‘
ایڈورڈ کولسٹن کی جگہ جین ریڈ کا مجسمہ نصب کیے جانے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل سامنے آیا۔ جہاں کئی افراد کو ایڈورڈ کولسٹن کی جگہ جین ریڈ کا مجسمہ نصب کرنا پسند آیا ہے وہیں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے بھی نظر آئے۔
شان ہاکی نامی صارف سمیت بہت سے افراد نے اُس لمحے کی تصویر شیئر کی جب جین ریڈ، کولسٹن کا مجسمہ گرائے جانے کے بعد ستون پر چڑھیں۔
اس کے ساتھ جین ریڈ کے مجسمے کی تصویر شیئر کرتے ہوئے شان ہاکی نے لکھا ’آج صبح غلاموں کے تاجر ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کی جگہ برسٹل میں بلیک لائیوز میٹر کے مظاہرین میں شامل جین ریڈ کا مجسمہ نصب کیا گیا۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ زبردست ہے۔
برطانیہ میں وومنز اکوایلٹی پارٹی نے ٹویٹ کی اور لکھا ’ہاں! بلیک لائیوز میٹر مہم کے مظاہرین میں شامل جین ریڈ کا مجسمہ ہماری تاریخ کی اُن چیزوں میں شامل ہے جس پر ہم فخر کر سکتے ہیں۔‘
یہ بلیک لائیوم میٹر مہم۔۔۔ جو امریکہ میں تین خواتین نے شروع کی اور آج بھی دنیا بھر میں خواتین اس کے لیے کوشاں ہیں، برطانیہ کے کسی بھی بڑے شہر میں یہ شاید ایک سیاہ فام خاتون کا واحد مجسمہ ہو۔‘
ایک اور ٹوئٹر صارف نٹالیا کا کہنا تھا ’مجھے یہ بہت اچھا لگا کہ کسی نے مظاہرہ کرنے والی جین ریڈ کا مجسمہ بنایا ہے۔ یہ بہت اچھا لگتا ہے اور اسے یہی رہنا چاہیے۔‘مگر ہر کوئی اس مجسمے کو یہاں نصب کرنے سے خوش نہیں۔
کارا نامی صارف کا کہنا ہے کہ ’کیا ایک مجرم کا مجسمہ ہٹا کر ایک اور مجرم کا مجسمہ لگانا درست ہے؟ اس کی جگہ ایسی کسی شخصیت کا مجسمہ کیوں نہیں لگایا گیا۔‘ کارا کا اشارہ اپنی ٹویٹ کے ساتھ شیئر کی گئی اس تصویر میں موجود پرنسس کیمبل نامی ایک نرس کی طرف تھا۔
انھوں نے اپنی ٹویٹ میں مزید یہ بھی لکھا تھا کہ ’یہ پہلی سیاہ فام نرس تھیں۔ انھوں نے سیاہ فام افراد کو برابر حقوق دلانے کے لیے مہم میں حصہ لیا اور تخریب کاری نہیں کی۔ میری نظر میں ایڈورڈ کولسٹن اور جین ریڈ دونوں جرم کے مرتکب ہوئے ہیں۔
7 جون کو مظاہرین نے کولسٹن کے مجسمے کو ہٹانے کے لیے رسیوں کا استعمال کیا جو سنہ 1895 سے برسٹل کے وسط میں اس ستون پر نصب تھا۔ اسے گرانے کے بعد مجسمے کو گھسیٹ کر بندرگاہ کی طرف لے جایا گیا، جہاں اسے پیرو کے پل سے پانی میں پھینک دیا گیا۔
پیرو نامی یہ پل کا نام ایک غلام پیرو جونز کے اعزاز میں رکھا گیا تھا جو اسی شہر میں رہتے تھے۔
برسٹل سٹی کونسل نے اس مجسمے کو کئی دن بعد پانی سے نکالا اور اب اسے بلیک لائیوز میٹر مہم میں استعمال ہونے والے پلے کارڈ سمیت ایک میوزیم میں رکھا جائے گا۔
مارک کوئین کے قابل ذکر فن پاروں میں ’سیلف پورٹریٹ سیلف‘ اور ’ایلیسن لاپر پریگننٹ‘ کے نام سے ایک مجسمہ شامل ہے جسے ٹریفالگر سکوائر میں چوتھے ستون پر رکھا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

کینیڈا نے پاکستان کو اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم میں شامل کر رکھا ہے

کینیڈا نے پاکستان کو اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم میں شامل کر رکھا ہے

اوٹاوا: پاکستان ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ نے کینیڈین ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے