اس بوتل سے پانی پی کر اسے کھایا بھی جاسکتا ہے

لندن:  رائل کالج آف آرٹ اور امپیریل کالج لندن کے ماہرین نے پانی اور مشروبات محفوظ رکھنے کے لیے ایک ایسا شفاف مادہ تیار کیا ہے جس میں رکھا گیا پانی پینے کے بعد اس بوتل کو کھایا بھی جاسکتا ہے۔ اسے کیلشیم کلورائیڈ اور بھوری سمندری کائی (براؤن الجی) میں پائے جانے والے ’’سوڈیم الجی نیٹ‘‘ نامی مرکب کو آپس میں ملا کر تیار کیا گیا ہے جب کہ ان کے ساتھ اضافی طور پر پانی کے سالمات (مالیکیولز) بھی شامل کیے گئے ہیں جو اسے نرم اور فرحت بخش خوردنی مادے میں تبدیل کردیتے ہیں۔ اگرچہ اس بلبلہ نما بوتل میں استعمال کیا گیا پلاسٹک جیسا مادّہ پہلے پہل 2014 میں ایجاد کرلیا گیا تھا لیکن اس میں کچھ خامیاں تھیں جنہیں گزشتہ تین سال میں دور کرنے کے بعد اب باقاعدہ طور پر ایک بلبلے کی شکل دے دی گئی ہے۔

ماہرین نے اپنی اس ایجاد کو تجارتی مرحلے تک پہنچانے کےلیے ایک کمپنی بھی قائم کرلی ہے اور کراؤڈ فنڈنگ پیج بناکر سرمایہ جمع کرنا شروع کردیا ہے۔پانی یا مشروب سے بھر جانے کے بعد یہ انوکھی اور لچک دار بوتل کسی غبارے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ اس کے ایک موجد کا کہنا ہے کہ اگر آپ کو اس بوتل کا ذائقہ پسند نہ آئے تو کوئی بات نہیں، آپ اسے بے خوف ہو کر کچرے میں پھینک سکتے ہیں کیونکہ یہ چند دن میں خودبخود گل کر ختم ہوجائے گی اور اس سے ماحول کو کسی قسم کا کوئی نقصان بھی نہیں پہنچے گا۔ ماہرین کو امید ہے کہ آنے والے برسوں میں ماحول دوست پلاسٹک کے طور پر ان کی یہ ایجاد اہم کردار ادا کرسکے گی کیونکہ یہ اپنی تیاری سے لے کر استعمال تک، ہر مرحلے میں محفوظ اور ماحول کے لیے بے ضرر ہے۔

یہ بھی پڑھیں

جرمنی کی, حکومت ایران کے, ساتھ بحران میں ثالثی, کا کردار, ادا کرنا, چاہتی ہے

جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی ہے

برلن: جرمنی کی حکومت ایران کے ساتھ بحران میں ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہتی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے