حکومت ملک میں گندم کا مصنوعی بحران پیدا کررہی ہے

حکومت ملک میں گندم کا مصنوعی بحران پیدا کررہی ہے

کراچی: میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر قانون سندھ کا کہنا تھا کہہ موجودہ حکومت کے دور میں کئی بحران آئے لیکن حکومت نے کچھ نہیں کیا، مافیاز طاقتور ہوتی گئیں اور حکومت ان کے آگے گھٹنے ٹیکتی گئی

دنیا میں تیل کی قیمتوں میں کمی آئی تو اس حکومت نےقیمتوں میں کمی کرنے میں پہلے تو بہت تاخیر کی اور کبھی اتنی نااہل حکومت نہیں دیکھی تو ریاست کے مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد کرسکیں۔
حکومت سندھ نے کہا شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ کو آئے 55 روز ہوگئے لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی اور چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
سندھ حکومت کو تحقیقات کے لیے اسلام آباد بلالیا گیا لیکن وزیراعظم جن کا چینی بحران میں براہ راست کردار ہے ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کرتا۔
ترجمان حکومت سندھ نے کہا ایک اور گندم کا بحران ملک میں آنے والا ہے، حکومت طلب و رسد میں فرق پیدا کرتی ہے جس کی وجہ سے قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور ان کے آس پاس بیٹھے لوگ پیسے کماتے ہیں۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ پورے ملک ٹڈی دل کا حملہ تھا ہم نے وفاقی حکومت کو ایک کروڑ روپے دیے تاکہ وہ اس سے جہاز چلا کر کیڑے مار ادویات کا اسپرے کرسکیں اس کے باوجود ٹھیک کام نہیں ہوا۔
پنجاب میں گندم کی پیداوار کا ہدف 19.66 ملین میٹرک ٹن تھا جبکہ پیداوار 19.4 ملین میٹرک ٹن رہی، کے پی میں پیداوار کا ہدف 2.57 ملین میٹرک ٹن تھا اور اصل پیداوار 1.22 ملین میٹرک ٹن رہی یعنی نصف سے بھی کم ہدف پورا ہوپایا۔
اسی طرح بلوچستان کی گندم پیداوار کا ہدف ایک ملین میٹرک ٹن تھا جبکہ حقیقی پیداوار 0.84 ملین میٹرک ٹن رہی۔
سندھ میں جہاں پی پی پی کی حکومت ہے صرف اس صوبے میں گندم کی پیداوار کا ہدف نہ صرف حاصل کیا گیا بلکہ اس سے تجاوز کیا گیا ہدف 3.8 ملین میٹرک ٹن اوتھا جبکہ اصل پیداوار 3.852 ملین میٹرک ٹن رہی۔
گندم خریدی کے اہداف کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ ماضی میں ستمبر سے مارچ کے دوران حکومت گندم جاری کرتی ہے تاکہ قیمتیں مستحکم رہیں
صوبہ پنجاب نے گندم کی خریداری کا 90 فیصد کے پی نے 5 فیصد، بلوچستان نے 83 فیصد، پاسکو نے 65 فیصد جبکہ صوبہ سندھ نے 98 فیصد ہدف حاصل کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری درست حکمت عملی کے بدولت گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں ہوا اور صوبے میں گندم کی بوری 5 ہزار سے کم میں دستیاب ہے جبکہ دیگر علاقوں میں قیمت 5 ہزار تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں بحران کی صورتحال پیدا کی جارہی ہے اور لوگوں سے ذخیرہ کرنا شروع کردیا ہے تا کہ فائدہ اٹھا کر پیسہ کمایا جائے۔
پہلے وفاقی حکومت نے طلب و رسد میں فرق کو دور نہیں کیا اور اب صوبوں پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ سرکاری گندم ابھی سے جاری کردی جائے۔
انکا کہنا تھا کہ اگر کے پی اور پنجاب میں قیمتوں میں اضافہ ہے تو ہماری گندم وہاں جانا شروع ہوجائے گی اور اگر سرحد بند کی جائے تو تنقید شروع ہوجائے گی۔
انہوں نے کہا ہمیں تشویش ہے کہ ہماری گندم دوسرے صوبوں میں ذخیرہ کرلی جائے گی اور ان کی حکمت عملی ہے کہ سال کے آخر تک سرکاری گندم جاری کردی جائے تا کہ مافیا قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کا خون نچوڑ سکے۔

یہ بھی پڑھیں

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے