گلبہار میں رشوت کے عوض غیر قانونی تعمیر کی اجازت دی گئی

گلبہار میں رشوت کے عوض غیر قانونی تعمیر کی اجازت دی گئی

کراچی: کیس کے تفتیشی افسر نے ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر عمران احمد عرف شیخ اور عمارت کے مالک جاوید کو مرکزی ملزم قرار دیا جبکہ ڈپٹی ڈائریکٹر سرفراز جمالی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر مقصود قریشی اور بلڈنگ انسپکٹر عرفان کو غفلت برتنے اور چوری کرنے کا ملزم ٹھہرایا

آئی او نے اس وقت کے کچی آبادی کے ڈائریکٹر محمد رقیب اور اس وقت کے ڈائریکٹر لیاقت آباد عامر کمال جعفری اور بلڈنگ انسپکٹر عابد حسین بھٹو کو شواہد کی عدم دستیابی پر چارج شیٹ نہیں دی۔
آئی او نے جوڈیشل مجسٹریٹ (وسطی) کے سامنے چارج شیٹ دائر کی اور عمارت کے مالک کے تین بیٹے اور بیوی اور ایس بی سی اے ملازم لطافت مرزا کو مفرور ظاہر کیا۔
چارج شیٹ میں کہا گیا کہ ایس بی سی اے نے رشوت لینے کے بعد 74 مربع گز کے پلاٹ پر سات منزلہ عمارت کی تعمیر اجازت دی تھی اور مزید کہا کہ ڈپٹی ڈائریکٹر عمران نے جاوید سے اس عمارت کی ہر منزل کی تعمیر کے خلاف ایک لاکھ 50 ہزار روپے وصول کیے تھے۔
اس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک مرحلے پر ایس بی سی اے نے عمارت کی تیسری منزل کو منہدم کردیا تھا اور اس کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر نے عمارت کے مالک سے مزید ایک لاکھ 50 ہزارروپے وصول کیے تھے اور تعمیرات کو جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔
چارج شیٹ میں کہا گیا کہ علاقے کے لوگوں کے بیانات کے مطابق لطافت مرزا ایس بی سی اے کا نمائندہ بھی تھا اور وہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف علاقے سے رقم جمع کرتا تھا۔
آئی او نے کہا کہ وہ اس کا سراغ اور اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل نہیں کرسکے ہیں۔
آئی او نے چارج شیٹ میں کہا ہے کہ اس وقت لیاری ٹاؤن میں بطور ڈائریکٹر تعینات محمد رقیب نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایس بی سی اے کے ڈائریکٹر جنرل نے 13 نومبر 2019 کو کچی آبادی سیل تشکیل دیا تھا اور انہیں سیل کا ڈائریکٹر بنایا تھا۔
ہ ڈی جی نے رواں سال مارچ میں یہ سیل ختم کردیا تھا، اس کے علاوہ ڈائریکٹر لیاقت آباد عامر جعفری نے کچی آبادی کے علاقے سمیت عمارت کے بارے میں تفصیلات سے متعلق اپنے دفتر کو ایک خط بھیجا تھا۔
چارج شیٹ میں کہا گیا کہ محمد رقیب کے مطابق زیربحث علاقے کچی آبادی میں شامل نہیں ہوتا جبکہ عامر کمال جعفری نے یہ بھی کہا کہ یہ علاقہ ایس بی سی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور یہ بھی بتایا کہ کچی آبادیوں میں غیر قانونی تعمیرات کو بھی کنٹرول کرنا ایس بی سی اے کی ذمہ داری ہے۔
آئی او نے بتایا کہ منہدم عمارت کا مالک جیل میں ہے اور ڈپٹی ڈائریکٹر عمران اور ایس بی سی اے کے دیگر نامزد اہلکار ضمانت پر ہیں۔
استغاثہ کے مطابق مارچ میں گل بہار میں کثیر المنزلہ عمارت گرنے سے خواتین اور بچوں سمیت 27 افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے اور 23 زخمی ہوگئے تھے۔
رضویہ تھانے میں درج واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق عمارت محمد جاوید خان نامی شخص کی ملکیت ہے جو کنسٹرکشن کا کام کرتے ہیں اور مذکورہ گراؤنڈ پلس 4 عمارت بھی انہوں نے ہی تعمیر کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور وال چاکنگز ختم کرنا شروع

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے جھنڈے اور وال چاکنگز ختم کرنا شروع

کراچی: ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) ویسٹ عاصم خان قائمخانی کا کہنا ہے کہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے