آئی ایم ایف نے خطے میں معاشی سست روی سے خبردار کردیا

آئی ایم ایف نے خطے میں معاشی سست روی سے خبردار کردیا

کراچی: مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا ڈویژن (ایم سی ڈی) کے ممالک کا ذکر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ‘2020 میں ایم سی ڈی خطے کی اصل جی ڈی پی میں 4.7 فیصد کمی متوقع ہے

جو اپریل 2020 کے خطے کے معاشی نقطہ نظر کے مقابلے میں 2 فیصد کم ہے اور اس عرصے کے دوران عالمی نمو کی نظرثانی کے عین مطابق ہے’۔
2020 کے دوسرے نصف حصے میں نمو کی پیش گوئی میں کمی کا بیشتر حصہ تیل کے برآمد کنندگان کے لیے بگڑتا ہوا نقطہ نظر ہے جن کی برآمدات میں 2019 کے مقابلے میں 270 ارب ڈالر کی کمی دیکھی جاسکتی ہے، جو توقع سے کہیں زیادہ ہے۔ مصر اور پاکستان سمیت میناپ خطے میں تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تیل کی کم قیمتوں سے حاصل ہونے والے فوائد ا تجارت میں رکاوٹ، سیاحت، ترسیلات زر، سخت عالمی مالیاتی حالات اور مقامی اخراجات کے نتائج کو متوازن کررہے ہیں جو وبا کو روکنے کے اقدامات کے ساتھ نمو کو متاثر کررہے ہیں۔
اس گروہ میں پاکستان اور مصر 2 ممالک ہیں جن کی نمو کی پیش گوئی ان کے متعلقہ حکام کی جانب سے پہلے ہی بتائی گئی نمو سے تبدیل نہیں ہوئی اور ان میں ایک فیصد کمی آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ان دونوں ممالک نے خطے کے تمام ممالک کے مقابلے میں شرح سود میں سب سے زیادہ کمی کی ہے۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان اور مصر نے شرح سود میں بالترتیب 525 بیسس پوائنٹس اور 300 بیسس پوائنٹس کی کمی کی، پاکستان نے جون کے اواخر میں شرح سود میں مزید 100 بیسس پوائنٹس کی کمی کی۔
خطے کے 16 ممالک نے امریکی فیڈرل ریزرو کے عین مطابق اپنی شرح سود میں تقریباً 150 بیسس پوائنٹس کمی کی، حالانکہ خطے میں 9 مرکزی بینکس نے بھی ایک ہی وقت میں معیشتوں میں بہت بڑے لیکویڈیٹی انجیکشن (40 بلین ڈالر سے زائد کے) میں حصہ لیا تھا۔
پاکستان ان ممالک میں بھی شامل ہے جنہوں نے کچھ مداخلتوں کے باوجود زرمبادلہ کی شرح کو معاشی دھچکا برداشت کرنے کے لیے استعمال کی اجازت دی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے