ایف آئی اے میں شاہین ایئر کیخلاف مقدمہ درج

ایف آئی اے میں شاہین ایئر کیخلاف مقدمہ درج

کراچی: کیس کارپوریٹ کرائم سرکل کراچی کی جانب سے کی جانے والی انکوائری کا نتیجہ ہے جسے سی اے اے کراچی کی تحریری شکایت پر شروع کیا گیا تھا

سینئر عہدیدار نے نشاندہی کی کہ انکوائری میں یہ بات سامنے آئی کہ شاہین ایئرلائن کو ’فلائٹ آپریشن چارجز‘ سول ایوی ایشن کو ادا کرنے تھے لیکن شاہین ایئر کے چیئرمین کاشف صہبائی، سی ای او احسان خالد صہبائی، ڈائریکٹرز اور انتطامیہ کے اراکین نے مبینہ طور پر مارچ 2018 سے اب تک سی اے اے کو چارجز کی ادائیگی میں دھوکا دیا۔
غیر قانونی طور پر تقریباً ایک ارب 40 کروڑ روپے کی رقم اور کے آئی بی او آر + سی اے اے کے سرچارج، اپنے پاس رکھے جس کے باعث قومی خزانے کو کے آئی بی او آر-سرچارج اور ایک ارب 40 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔
انکوائری کے دوران ایف آئی اے نے ملزمان کے سی ٹی آرز/ای ٹی آرز کے لیے مالیاتی نگرانی کے یونٹ (ایف ایم یو) سے رجوع کیا جس پر ایف ایم یو نے کینیڈین حکام سے رابطہ کیا۔
ایف آئی اے ڈائریکٹر نے انکشاف کیا کہ دو ملزمان کو رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس(آر سی ایم پی) نے 5 لاکھ کینیڈین ڈالر نقد کے ساتھ روکا جو اب پولیس کے پاس ہے۔
چنانچہ شاہین ایئرلائن کے ڈائریکٹرز کے خلاف کیس ’پاکستان پینل کوڈ کی دفعات406 (کرمنل بریچ آف ٹرسٹ) کی دفعہ ، 489-ایف (ڈس آنرنگ آف چیک) ، 109(جرم میں اعانت)، 34 (مجرمانہ عزائم) اور انسداد منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کی دفعہ 3 ار 4 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
شاہین ایئر لائن کے جن اراکین کو اس مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے ان میں سی ای او احسان خالد صہبائی اور ڈائریکٹرز کاشف محمود، سبرینہ کلثوم صہبائی، جاوید کریم، جینٹ صہبائی، ہوشنگ بی سدوا، راشدہ یاسمین، یاور محمود اور محمد واثق شامل ہیں۔
افسر نے بتایا کہ ایک ڈائریکٹر یاور محمود صہبائی کو گرفتار کرلیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

پچھلے 20 سال میں کراچی میں کچھ نہیں کیا گیا

کراچی: سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے