کراچی کے علاقے گرو مندر میں آخر مندر کہاں ہے

کراچی کے علاقے گرو مندر میں آخر مندر کہاں ہے

کراچی: گُرو مندر کے نام سے تقریباً ہر کراچی والا واقف ہے اور کام کاج کی غرض سے کم و بیش ہر شہری کا کبھی نہ کبھی یہاں آنا جانا ضرور ہوا ہے۔ لیکن بہادر یار جنگ روڈ پر موجود گُرو مندر، جس سے اس چورنگی یا چوراہے کا نام پڑا ہے، کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے ہیں

کراچی کے مندروں پر کچھ کام کر رہے ہیں اور مجھ سے سوال کیا: ’کیا آپ کو معلوم ہے کہ گُرو مندر کے علاقے میں مندر کہاں ہے؟‘
ان کے اس سوال کا میرے پاس اس وقت کویی جواب نہ تھا تاہم ان کی بدولت اب مندر ڈھونڈنے کا خیال میرے دماغ میں اٹک گیا۔ پھر کیا تھا، میں جنگ پریس سے نیچے اتری، آئی آئی چندریگر روڈ سے رکشہ پکڑا اور گُرو مندر کی لیے نکل پڑی۔
مطلوبہ علاقے میں پہنچ کر معلوم ہوا کہ مندر کسی بڑی سی سفید مسجد کے آس پاس ہے۔ تاہم اس مسجد کے تین چکر کاٹنے کے بعد بھی ہمیں وہ مندر دکھائی نہیں دیا۔ مندر دراصل مسجد کی کِس سمت میں واقع ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں اپنی سواری سے اتر کر مسجد کے باہر بیٹھے پان والے سے مدد لینی پڑی۔
آگے کی روداد سے پہلے کچھ ذکر ہو جائے کراچی کے گنجان آباد علاقوں میں کسی جگہ کا پتا ڈھونڈنے کا۔۔۔
اگر آپ کراچی سے واقفیت رکھتے ہیں تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہاں کسی کو بھی پتہ بتاتے ہوئے صرف ’پاس میں‘ یا ’برابر‘ کا لفظ استعمال کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اگر مسجد کے برابر ہے تو مسجد کا نام جاننا ضروری ہے، کیونکہ شہر کی ہر گلی میں کئی مختلف مساجد ہیں، اور تقریباً ہر دوسری مسجد کا نام ہری، قرطبہ یا مدنی ہے اور کبھی کبھی تو ایک نام والی تین مساجد ایک ہی گلی میں ہوسکتی ہیں۔
اگر گلی کے برابر میں ہے تو گلی کا نام جاننا ہی کافی نہیں، اکثر ایک گلی کے بھی تین مختلف نام ہوتے ہیں: ایک وہ جو انگریز دے کر گئے تھے، دوسرا وہ جو لوگوں نے اپنی طرف سے رکھا ہے اور تیسرا وہ جو حال ہی میں کسی سیاسی یا سماجی شحضیت کے نام پر رکھا گیا ہے۔
ہاں تو ہم تھے سبیل والی بڑی مسجد کے پاس جس کے بالکل برابر گاڑیوں کی پارکنگ ہے اور اس کے ساتھ ہی ایک احاطہ۔ اس احاطے کے باہر کا دروازہ بند رہتا ہے، جبکہ باہر سے ہی ایک مٹیالے رنگ کی عمارت نظر آتی ہے۔ ہم اس طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ ایک عمر رسیدہ شخص نے ہم سے آنے کی وجہ پوچھے بغیر دروازہ کھول کر اندر جانے کا راستے دے دیا۔
اس احاطے کے اندر جاتے ہی سامنے مندر نظر آیا لیکن عمارت کا ڈھانچہ مندر جیسا نہیں لگ رہا تھا۔
مندر کے بہت قریب جا کر داخلی دروازے کے اوپر لگی تختی کو دیکھنے پر انگریزی میں ’گُر مندر‘ لکھا ہوا نظر آیا۔
اس مندر کی حفاظت کا ذمہ اس وقت وہی عمر رسیدہ شخص کر رہے تھے جنھوں نے میرے لیے دروازہ کھولا تھا۔ انھوں نے اپنا نام انور بتایا اور کہا کہ وہ صرف باہر راہداری کی صفائی کرتے ہیں جبکہ اندر کی صفائی کا ذمہ ’اُن لوگوں کا ہے۔‘
چونکہ اس مندر کا دروازہ کھلا ہوا تھا، تو تجسس ہوا کہ اندر جا کر دیکھا جائے لیکن اندر سپاٹ زمین کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
داخلی دروازے کے بالکل ساتھ ہی اندر ایک چھوٹا سا کمرہ ہے جہاں دیوار کے ساتھ فائلوں کا ایک انبار جمع تھا۔ اُس وقت وہاں انکم ٹیکس کے ملازمین کام کر رہے تھے۔
ایک امید جاگی کہ شاید ان کے پاس کچھ معلومات ہوں لیکن پوچھنے پر پتا چلا کہ ان کو بھی مندر کی تاریخ کے بارے میں زیادہ نہیں پتا۔
عمارت کے بیرونی حصے کی چند تصاویر بنانے کے بعد میں دوبارہ پان والے کا شکریہ ادا کرنے ان کی دکان کے پاس رُکی۔ انھوں نے بتایا کہ کئی بار اس مندر کو گرانے سے روکنے کے لیے انڈین ہائی کمیشن کی ٹیم آتی رہی ہے۔
یہ وہ کڑی تھی جہاں سے میں نے اسی مسجد کے قریب ہی واقع متروکہ وقف املاک بورڈ کے ادارے کا رخ کیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں شہر کی مذہبی عمارتوں اور زمینوں کے بارے میں تمام تر معلومات ہوتی ہیں اور جن کو مالک نہ ہونے کی صورت میں کسی عمارت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔
وہاں سے گُرو مندر کی دستاویزات ملیں جن کے مطابق گُرو مندر دراصل گرودوارہ تھا، نہ کہ مندر، جبکہ تقسیمِ ہند کے بعد سے اس مندر کی ملکیت متنازع رہی ہے۔
دستاویزات کے مطابق گُرو مندر 1935 میں بنا جبکہ 1939 میں اس کی ملکیت حیدرآبادی عامل کو آپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کو دی گئی۔ تقسیم کے بعد 1948 میں اس وقت کے گُرو مندر ایسوسی ایشن کے صدر بھگوان سنگھ ایڈوانی نے یہ زمین فریڈرک کاٹن سڈنی کو فروخت کردی۔ اس فروخت کی رجسٹری جنوری 1951 میں درج کی گئی۔
10 سال بعد وفاقی حکومت نے وزارتِ خزانہ کے ذریعے اس زمین کو سڈنی سے واپس خرید لیا۔ پھر 1974 میں سیّد مہدی علی شاہ کے پاس یہ زمین رہی، لیکن عدالت کے ذریعے اس زمین کی ملکیت حاصل کرنے کی اُن کی درواست مسترد ہوگئی۔
اُن کے بھائی ظفر حسین نے ایک اور درخواست دربدر ہوچکے لوگوں کی بحالی اور معاوضے کے قانون ’ڈسپلیسڈ پرسن (کمپنسیشن اینڈ ری ہیبیلیٹیشن) ایکٹ 1958‘ کے تحت دائر کی، لیکن عدالت نے اس درخواست کو بھی مسترد کردیا۔
مقدمے کے دوران یہ بھی بات سامنے آئی کہ انڈین شہری ہونے کے ناطے بھگوان سنگھ ایڈوانی کسی کو بھی پاکستانی علاقے مںی واقع اس گُرو مندر کی زمین فروخت نہیں کرسکتے۔
بالاخر گُرو مندر کے مقدمے کے جج نے اسے متروکہ جائیداد قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں مزید فیصلہ محفوظ کرلیا۔
اس کے بعد سے گُرو مندر کی زمین کو دو بار انکم ٹیکس اور ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے دفتر کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، جبکہ پچھلے 14 سالوں سے اس زمین کی ملکیت کے تنازع کا مقدمہ متروکہ وقف املاک بورڈ اور ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ کے درمیان جاری ہے۔
اس کے ساتھ ہی گُرو مندر کے بارے میں کہا گیا کہ یہ مندر ہے، جو کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے دستاویزات کے مطابق گُرو دوارہ ہے۔
لیکن بات یہاں نہیں رک جاتی۔ 2014 میں سندھی زبان میں کراچی کے مختلف مقامات پر شائع ہونے والی کتاب ’کراچی سندھ جی مارئی‘ میں مصنف اور محقق گل حسن کلمتی بیان کرتے ہیں کہ اسی علاقے میں تقریباً تین مختلف مندروں کا نام گرو مندر ہے۔
محقق گل حسن کلمتی کہتے ہیں کہ تاریخ کو اگر دیکھا جائے تو گرو مندر چوک سے سولجر بازار کے علاقے تک زیادہ تر رہائشی ہندو تھے۔ ’جبکہ یہ کہنا کہ یہاں گرودوارہ ہے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ کیونکہ اگر تاریخ پڑھی جائے تو رام باغ اور نارائن پورہ کے علاقے میں زیادہ تر آبادی سکھ برادری کی تھی۔‘
لیکن انھوں نے یہ بھی کہا کہ گُرو مندر کی تاریخ پر مزید تحقیق کرنے کی ضرورت ہے اور کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔
دوسری جانب کراچی سے تعلق رکھنے والے محقق اور صحافی اختر بلوچ نے اپنی کتاب کرانچی والا 1 کے باب ’گرو مندر کی تلاش‘ میں لکھتے ہیں کہ گرو مندر ڈھونڈتے ہوئے انھیں تقریباً تین اور مندر مل گئے، لیکن تینوں مندروں کے منتظمین نے ان سے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ’یہ گُرو کا مندر نہیں ہے۔‘
اختر بلوچ اور ان کے ساتھ ان کے ساتھی نے بھی سبیل والی مسجد کے پاس موجود مندر پر ’گُر مندر‘ کی تختی دیکھی اور اپنی کتاب میں اس کا تذکرہ بھی کیا۔ لیکن اس سے زیادہ معلومات جیسے کہ یہ مندر تھا یا گرو دوارہ، کس نے بنایا اور اس کی تاریخی حیثیت کیا رہی ہے اس بارے میں تقریباً متنازع معلومات ہی میسر ہوئیں۔
آج بھی ہندو اور سکھ برادری کے لوگ گرو مندر کی اصل شناخت پر دو بالکل مختلف رائے رکھتے ہیں۔
1992 میں جب انڈیا میں بابری مسجد کو مسمار کیا گیا تب گُرو مندر چوک کے اردگرد مندروں کو بھی مسمار کرنے کی کوشش کی گئی۔
اسی دوران یعنی 1992 میں پاکستان میں کئی ہندو نام والے علاقوں کے نام تبدیل کرنے کی مہم چلی اور نتیجتاً کئی علاقوں کے نام تبدیل ہوئے۔ انھی علاقوں میں گُرو مندر کا نام بھی لیا گیا۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گُرو مندر کے بالکل برابر بلند و بالا سبیل والی مسجد بنانے کا مقصد علاقے کا نام گُرو مندر سے بدل کر سبیل والی مسجد رکھنا ہے۔
متروکہ وقف املاک بورڈ کے پاس 1950 کی دہائی کے نقشے کے مطابق بندر روڈ (ایم اے جناح روڈ) سے نمائش چورنگی اور وہاں سے آگے آتے ہوئے گُر مندر سڑک کے کنارے پر تھا۔ حکام بتاتے ہیں کہ سڑک کنارے کی جگہ کئی سال تک خالی رہی لیکن جیسے جیسے شہر کی آبادی بڑھی ویسے ہی مندر کے آس پاس بھی پارکنگ بن گئی۔ پھر گاڑی دھونے والے آئے اور پھر ایک دن مسجد بن گئی۔
لیکن اب تک اس علاقے کا نام تبدیل نہیں ہوسکا ہے۔
یہ عمارت اب بھی موجود ہے لیکن اب یہاں کے دروازے اور کھڑکیاں بند ہیں۔ شہر کے رش میں اسے دیکھنے کے لیے ایک اور چکر لگانا پڑسکتا ہے کیونکہ اتنے برسوں میں آس پاس ہونے والی تعمیرات کے بعد اب یہ عمارت بھی چھپ کر رہ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

کورونا وائرس کراچی ایئرپورٹ پر مزید حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں

کورونا وائرس کراچی ایئرپورٹ پر مزید حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں

کرا چی: اس حوالے سے چیف آپریٹنگ آفیسر عمران خان کا کہنا ہے کہ سی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے