پولیو ویکسین سرگرمیاں چار ماہ تک معطل رہنے کے بعد 20 جولائی سےدوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ

پولیو ویکسین سرگرمیاں چار ماہ تک معطل رہنے کے بعد 20 جولائی سےدوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: پہلے مرحلے میں جن علاقوں میں اس مہم کو چلایا جائے گا وہ فیصل آباد، اٹک، جنوبی وزیرستان، کراچی اور کوئٹہ کے کچھ حصے ہیں جن میں پانچ سال سے کم عمر 8 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے

کوئٹہ میں 10 یونین کونسلز میں خصوصی حفاظتی ٹیکوں کی مہم چلائی جائے گی جس کے دوران ایک لاکھ 10 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔
وزارت صحت کی رہنمائی اور عالمی پولیو خاتمہ اقدام (جی پی ای آئی) کے رہنما اصولوں اور پولیو اوورسائٹ بورڈ کی سفارشات کی پیروی میں پاکستان پولیو کے خاتمے کے پروگرام نے نگرانی کے علاوہ، مارچ کے آخری ہفتے میں پولیو سے متعلق تمام سرگرمیاں معطل کردی تھیں۔
کورونا وائرس میں جاری نگرانی اور مختلف سطحوں پر ردعمل کی کوششوں کی حمایت کرنے کے لیے پروگرام کی تمام صلاحیتوں کو ری ڈائریکٹ کیا گیا تھا۔
یہ پروگرام کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ پاکستان بھر میں پولیو اور ویکسین سے بچنے کے قابل دیگر امراض کے خطرات کی نگرانی کر رہا ہے۔
لاک ڈاؤن، آؤٹ پیشنٹ ڈپارٹمنٹس (او پی ڈی) کی بندش اور سفری مشکلات کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں کی سرگرمیوں کی معطلی صحت کی ضروری مداخلتوں کو متاثر کرتی ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘ہماری معیشت اور معاشرے پر کورونا وائرس کا اثر بے مثال ہے، کووڈ 19 کی وجہ سے حفاظتی ٹیکوں کی ضروری خدمات میں رکاوٹ کے ساتھ، بچوں کو پولیو اور دیگر حفاظتی ٹیکوں سے بچنے کے قابل بیماریوں کا خطرہ لاحق ہوا ہے’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘جہاں ہم کورونا وائرس کے ساتھ رہنا سیکھ رہے ہیں، میں تمام والدین اور نگراں افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو مفلوج کرنے والے پولیو سمیت تمام بچاؤ کے قابل ویکسین دیے جانے کو یقینی بنائیں، بچوں کی محفوظ ویکسینیشن اور فلاح و بہبود کو یقینی بنانا ہماری اولین ترجیح ہے’۔
اگست اور ستمبر میں بڑے پیمانے پر کیس ریسپانس راؤنڈ اور 2020 کی آخری سہ ماہی کے دوران ملک بھر میں تین مہمات شامل ہیں۔
رواں سال ملک بھر سے اب تک سامنے آنے والے پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 56 ہے۔
گزشتہ برس پولیو کے 144 کیس سامنے آئے تھے جبکہ 2018 میں یہ تعداد 12 اور 2017 میں 8 تھی۔
پولیو ایک انتہائی معتدی مرض ہے جو زیادہ تر 5 سال تک کی عمر کے بچوں کو اپنا شکار بناتا ہے، یہ اعصابی نظام پر اثر انداز ہو کر معذوری بلکہ موت کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
پولیو کا اب تک کوئی علاج دریافت نہیں ہوا البتہ ویکسینیشن بچوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کا سب سے موثر طریقہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں

نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات بالکل واضح ہیں

نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات بالکل واضح ہیں

 اسلام آباد: نیب نے مریم نواز کو آج طلب کیا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے