کے الیکٹرک آئندہ 18ماہ میں1000 میگا واٹ بجلی درآمد کرنےکےقابل ہوگا

کے الیکٹرک آئندہ 18ماہ میں1000 میگا واٹ بجلی درآمد کرنےکےقابل ہوگا

کراچی : گورنر سندھ کی زیر صدارت سندھ انڈسٹریل لائژن کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر ترقیات و منصوبہ بندی اسد عمر کی شرکت وزیر اعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر کی ویڈیو لنک کے ذریعے شریک

اجلاس میں پی سی سی آئی اورکراچی کی صنعتی علاقوں کی ایسوسی ایشنزکےنمائندوں نے بھی شرکت کی، دوران اجلاس صنعتی یونٹس کو گیس کی فراہمی اور دباؤ معمول کےمطابق کرنے کے اقدامات پر غور کیا گیا، ایم ڈی ایس ایس جی سی نے کہا صنعتی علاقوں میں گیس کی فراہمی پیر سےبہتر ہوجائے گی۔
اجلاس میں گیس کی لوڈ شیڈنگ کے نتیجے میں صنعتوں کی بندش اور دیگر مسائل پر اظہار خیال کیا گیا، صنعت کار نے کہا صنعتوں کی بندش سے غربت اور بے روزگاری بڑھے گی ، اسٹیٹ بینک کےرعایتی شرح پر قرض فراہمی کاخیر مقدم کرتے ہیں۔
ایسوسی ایشنز کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی طرف سےانفرااسٹرکچر ترقی کےاقدام نہیں کیےگئے ، وفاقی حکومت صنعتی علاقوں میں انفرااسٹرکچر بہتر بنانے پرسرمایہ کاری کرے جبکہ صدر کاٹی نے کہا سوئی سدرن گیس کمپنی کے لائن لاسز 15 فیصد ہیں ،یہ بڑا مسئلہ ہے۔
اجلاس میں گورنر سندھ نے کہا حقائق یہی ہیں کہ طلب اوررسد میں فرق کی وجہ سے گیس کی کمی ہے، صنعتوں کو چلانے کے لیےہر ممکنہ سہولتیں فراہم کریں گے، متعلقہ وفاقی وزرا سے درخواست ہے باقاعدگی سے کراچی کادورہ کریں اور سندھ انڈسٹریل لائژن کمیٹی کے اراکین سےملاقات بھی کریں۔
وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک آئندہ 18ماہ میں1000 میگا واٹ بجلی درآمد کرنےکےقابل ہوگا اور کے الیکٹرک کی صلاحیت کو بتدریج بڑھاتے چلے جائیں گے، صنعتوں کو ایل این جی لگانے پر غور کرنا چاہیے۔
معاون خصوصی ندیم بابر نے کہا گیس دباؤمیں کمی کے مسئلہ پر قابو پانے کے اقدامات کر رہے ہیں، ڈسٹری بیوشن لائنز 50 سال پرانی ہیں ،تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
ندیم بابر کا کہنا تھا کہ 14جولائی کو120000ٹن فرنس آئل کراچی پہنچ جائے گا، کے الیکٹرک کو معاہدہ سے زیادہ گیس فراہم کررہے ہیں اور فراہم فرنس آئل میں بھی کوئی کمی کوئی نہیں۔

یہ بھی پڑھیں

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی سرکلر ریلوے عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہے

کراچی: حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نورِ حق کراچی میں پریس …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے