چینی کی طرح پیٹرول کے مجرم پکڑنے میں بھی حکومت سنجیدہ نہیں

چینی کی طرح پیٹرول کے مجرم پکڑنے میں بھی حکومت سنجیدہ نہیں

لاہور: پیٹرول بحران انکوائری کمیٹی کی تحقیقات متعین مدت میں مکمل نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹرول بحران پر انکوائری کمیٹی کا 15 روز میں رپورٹ جمع نہ کرانا ’دال کالی ‘ہونے کا اشارہ ہے

پھر ثابت ہوا ہے کہ چینی کی طرح پیٹرول کے مجرم پکڑنے میں بھی حکومت سنجیدہ نہیں اور نہ ہی اس میں جرات و اہلیت ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ اس سوال کا جواب نہیں آیا کہ جب عوام کو پیٹرول نہیں مل رہا تھا تو ذخیرہ اندوزی کون کررہا تھا؟ جون کے مہینے میں قلت کے دوران پیٹرول کی فروخت زیادہ کیوں ہوئی؟ یہ پراسرار معمہ حل نہیں ہوا ، مئی کے مہینے میں فروخت 6 لاکھ 35 ہزار ٹن جب کہ جون میں پٹرول کی کھپت 7 لاکھ25 ہزار ٹن بتائی جارہی ہے، اس سوال کا جواب ہی اصل کہانی بتارہا ہے کہ لاک ڈاؤن اور قلت کے باوجود تیل کی فروخت اتنی زیادہ کیوں سامنے آئی؟،لاک ڈاؤن کے باعث طلب میں کمی اور قلت کے باوجود فروخت میں اتنے اضافہ کا مطلب صرف ذخیرہ اندوزی ہے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ ہر شخص محسوس کررہا ہے کہ ملک میں حکومتی عمل داری نام کی کوئی چیز موجود نہیں، موجودہ حکومت مافیاز اور مافیاز حکومت کی مدد سے چل رہے ہیں ، موجودہ دور میں مافیاز کو عوام کو لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا ہے ،حکومتی ملی بھگت سے پیٹرول کے ذریعے قوم سے اربوں لوٹ لئے گئے۔

یہ بھی پڑھیں

ہائی کورٹ نے ننکانہ کی سکھ لڑکی سے مسلمان لڑکے حسن کی شادی کو جائز قرار

ہائی کورٹ نے ننکانہ کی سکھ لڑکی سے مسلمان لڑکے حسن کی شادی کو جائز قرار

لاہور: ننکانہ میں سکھ لڑکی سے شادی کرنے والے لڑکے حسن کی جانب سے عدالت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے