عدالت عظمیٰ کے انسانی حقوق سیل کی کارروائی کے تابع نہیں

ہائی کورٹس، عدالت عظمیٰ کے انسانی حقوق سیل کی کارروائی کے تابع نہیں

اسلام آباد: عدالت نے گزشتہ ماہ سماعت کے دوران یہ معاملہ وزارت اوورسیز پاکستانی اور اوورسیز پاکستانیز فاؤنڈیشن (او پی ایف) کو بھیج دیا تھا

پاکستانی نژاد برطانوی خاتون اور ایک ریئل اسٹیٹ ادارے کے مالک کے درمیان اراضی کے تنازع سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران جسٹس اطہر من اللہ نے نشاندہی کی کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلے ہی ہیومن رائٹس کمیشن کی کارروائی سے متعلق ایک حکم جاری کیا تھا۔
جمعرات کو او پی ایف کے قانونی مشیر نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے شکایت کنندہ خاتون سے 25 جون کو رابطہ کیا تھا اور یکم جولائی کو برطانیہ میں کمیونٹی ویلفیئر سے وابستہ شخص نے بھی ان سے رابطہ کیا اور ان کا نقطہ نظر سنا تھا۔
‘ہم نے دستاویزات کو بھی استعمال کیا ہے اور شکایت کنندہ کی جانب سے خود ہمیں فراہم کی گئی آرڈر شیٹ کے مطابق اس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیا ہے’۔
جب جسٹس اطہر من اللہ نے ان سے سپریم کورٹ کا حکم پیش کرنے کو کہا تو او پی ایف کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ یہ ایچ آر سی کا خط ہے۔
گزشتہ سال سپریم کورٹ کے ایچ آر سی کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل بشارت احمد شہزاد، ڈپٹی ڈائریکٹر کامران علی اور انسپکٹر عرفان عظیم برنی پر مشتمل ایف آئی اے کی ایک تفتیشی ٹیم نے خاتون کی جانب سے دائر شکایت کی تحقیقات کی تھیں۔
ریئل اسٹیٹ ادارے کے موجودہ مالک ان کے ملازم تھے لیکن مبینہ دھوکہ دہی کے ساتھ ملزم نے ان کی جائیداد اپنے نام منتقل کرلی اور جب انہوں نے زمین واپس لینے کی کوشش کی تو ملزم نے انہیں دھمکیاں دی تھیں۔
ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق اداروں کے رجسٹرار اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری نے اصل دستاویزات کے بجائے فوٹو کاپیوں پر جائیدادیں منتقل کیں اور یہ بھی غیر شفاف طریقے سے کیا گیا۔
چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنی ملازمت کے آخری روز ایچ آر سی کو حکم دیا کہ وہ کیس ریکارڈ میں درج کریں۔
جسٹس اطہر من اللہ نے نوٹ کیا کہ یہ سپریم کورٹ کا حکم نہیں بلکہ انسانی حقوق کے سیل کا خط تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ایچ آر سی کا خط سپریم کورٹ کا حکم نہیں ہے، ہم مسلسل یہ بات کہہ رہے ہیں کہ اعلی عدالتیں، ایچ آر سی کی کارروائی کی پابند نہیں، آپ کو ایچ آر سی کے بارے میں ہائی کورٹ کا فیصلہ پڑھنا چاہیے جسے سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا ہے’۔
رئیل اسٹیٹ ادارے کے وکیل ایڈووکیٹ احسن بھون نے عدالت کو آگاہ کیا کہ شکایت کنندہ نے راولپنڈی کی سول عدالت میں متنازع اراضی پر راولپنڈی کی سول عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے لہذا یہ معاملہ ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا ہے۔
جب جسٹس اطہر من اللہ نے استفسار کیا کہ راولپنڈی عدالت میں زیر التوا مقدمے سے متعلق کوئی دستاویز موجود ہے تو احسن بھون نے جواب دیا کہ وہ سماعت کی اگلی تاریخ کو عدالت میں پیش کرسکتے ہیں۔
اس کے بعد عدالت نے ان سے اپنے تحریری جواب کے ساتھ اسے جمع کرانے کی ہدایت دی اور عدالت نے سماعت کو 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردیا۔

یہ بھی پڑھیں

سی ڈی اے کوتعمیرات کی ریگولرائز یشن کاعمل شفاف بنانے کاحکم دے دیا

سی ڈی اے کوتعمیرات کی ریگولرائز یشن کاعمل شفاف بنانے کاحکم دے دیا

اسلام آباد: جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ ہاؤسنگ سوسائٹیزکیلئےاپنا سیورج پلانٹ لگانے کی شرط …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے