مولانا عبدالعزیز اور جامعہ فریدیہ کے منتظم مولانا عبد الغفار دونوں نے مدرسے کی ملکیت کا دعوی کیا

مولانا عبدالعزیز اور جامعہ فریدیہ کے منتظم مولانا عبد الغفار دونوں نے مدرسے کی ملکیت کا دعوی کیا

اسلام آباد :مولانا عبدالعزیز نے مبینہ طور مقامی علمائے کرام اور سرکاری عہدیداروں کی طرف سے یقین دہانی انہیں وہاں لانے والے معاملے کو حل کرانے کی یقین دہانی کے بعد جامعہ فریدیہ کو چھوڑا

عہدیداروں نے بتایا کہ اس مدرسے کے آس پاس پولیس کی موجودگی کو بھی کم کردیا گیا ہے کیونکہ صورتحال امتحانات، جو 11 جولائی کو مدرسوں میں شروع ہوں گے، تک کے لیے بہتر ہوچکی ہے۔
مولانا عبدالعزیز اور جامعہ فریدیہ کے منتظم مولانا عبد الغفار دونوں نے مدرسے کی ملکیت کا دعوی کیا ہے۔
مولانا عبدالغفار، مولانا عبدالعزیز کے قریبی ساتھی ہوا کرتے تھے تاہم اب ان میں اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز نے 2000 کی دہائی میں مولانا عبدالغفار کو جامعہ فریدیہ کا منتظم مقرر کیا تھا تاہم مدرسے کے انتظامات ان کے ہاتھ سے مولانا عبدالغفار کے ہاتھوں میں چلے گئے تھے۔
مولانا عبدالعزیز، ان کے اہل خانہ اور جامعہ حفصہ کے 200 طلبا کچھ دن قبل جامعہ فریدیہ منتقل ہوگئے تھے۔
مولانا عبدالغفار اور اس کے ساتھیوں سے احاطہ خالی کرنے کو کہا تھا جس کے نتیجے میں دونوں فریقین کے درمیان تنازع پیدا ہوگیا تھا اور دونوں نے جانے سے انکار کردیا تھا۔
انتظامیہ اور پولیس عہدیدار بھی معاملے میں شامل ہوگئے تھے لیکن چونکہ یہ تنازع نجی نوعیت کا تھا اس لیے پولیس کی توجہ اس علاقے میں امن وامان برقرار رکھنے پر تھی۔
مدرسے کے چاروں طرف پولیس کا دستہ تعینات تھا۔
انتظامیہ کی درخواست پر علمائے کرام نے دونوں علما سے رابطہ کیا اور بات چیت کے ذریعے معاملہ طے کرنے کو کہا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ سرکاری حکام نے علمائے کرام کے ہمراہ مولانا عبدالعزیز کو یقین دلایا کہ زمین اور مدرسے کے اصل حق دار ہی کو اس پر قبضہ ملے گا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ حکومت اس زمین یا مدرسے کی ملکیت نہیں رکھتی ہے اور محض دونوں فریقین کے درمیان تصادم سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
علمائے کرام کو ضامن بنایا گیا اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک مہینہ طلب کیا گیا ہے جبکہ مولانا عبدالعزیز نے مدرسہ خالی کردیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پولیس ابھی بھی احتیاط کے طور پر مدرسے کے چاروں طرف تعینات ہے تاہم اہلکاروں کی تعداد میں کمی کی گئی ہے۔
عہدیداروں نے بتایا کہ مولانا عبدالعزیز کے والد نے 1970 کی دہائی کے آخر میں اس زمین کو حاصل کیا تھا اور اس پر مدرسہ تعمیر کیا تھا۔
مولانا عبدالعزیز کے بھتیجے ہارون رشید نے اس بات کی تصدیق کی کہ مولانا عبدالعزیز احاطے چھوڑ کر جامعہ حفصہ میں اپنے گھر چلے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات بالکل واضح ہیں

نوازشریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات بالکل واضح ہیں

 اسلام آباد: نیب نے مریم نواز کو آج طلب کیا تھا تاہم مسلم لیگ (ن) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے