پاکستان میں بتدریج معاشی بحالی متوقع ہے

پاکستان میں بتدریج معاشی بحالی متوقع ہے

واشنگٹن: آئی ایم ایف نے نوٹ کیا کہ ملک کا معاشی آؤٹ لک خاص طور پر خراب ہوا ہے اور مالی سال 2020 میں نمو کا تخمینہ 0.4 فیصد ہے

رپورٹ کے مطابق اپریل کے وسط کے بعد سے وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی سے ‘کم خطرے والی صنعتوں’ کو دوبارہ کام کرنے کی اجازت دے کر اور ‘چھوٹی خوردہ دکانوں’ کو نئے بنائے گئے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار کے ساتھ دوبارہ کھولنے کی اجازت دے کر لاک ڈاون انتظامات کو آہستہ آہستہ آسان بنارہی ہے
اس کے علاوہ گھریلو اور بین الاقوامی نقل و حرکت پر پابندیاں ختم کردی گئی ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ تعلیمی اداروں میں 15 جولائی کو دوبارہ سے کام شروع کیا جائے گا۔
ہفتہ کے اختتام پر دکانوں کی بندش اور اعلی خطرہ کے مخصوص علاقوں کو سیل کرنے کے ذریعہ ’منتخب کردہ‘ لاک ڈاؤن انتظامات بدستور برقرار ہیں۔
24 مارچ کو 12 کھرب روپے کے امدادی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا جس پر اب عمل درآمد کیا جارہا ہے اور مالی سال 2020-21 میں اس کی پیروی کی جائے گی۔
وبائی امراض کے معاشی اثر کو کم کرنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اٹھائے گئے مختلف اقدامات کی تفصیل دی گئی ہے۔
وفاقی حکومت کے اہم اقدامات میں ہنگامی صحت کے سامان پر درآمدی ڈیوٹی کا خاتمہ، 62 لاکھ یومیہ اجرت کمانے والے مزدوروں کو نقد رقم کی منتقلی، ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد کم آمدنی والے خاندانوں میں نقد رقم کی منتقلی، برآمداتی صنعت کے لیے ٹیکس ریفنڈز میں تیزی جن میں سے 65 فیصد پہلے ہی تقسیم کردیے گئے ہیں، اور ایس ایم ایز اور زراعت کے شعبے کو مالی اعانت فراہم کیا جانا شامل ہے۔
رپورٹ میں تعمیراتی شعبے میں ٹیکس مراعات کی فراہمی کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے تاکہ لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی شدید روزگار کی ضروریات کو دور کیا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

اسلام آباد: سربراہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنل سینٹر فار پولیو (این ای او سی) ڈاکٹر صفدر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے