کے الیکٹرک کی نجکاری پاکستان مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں کی گئی

کے الیکٹرک کی نجکاری پاکستان مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں کی گئی

کراچی: اسد عمر نے کراچی میں لوڈشیڈنگ کے حوالے سے بات کرنے سے قبل طنزیہ انداز میں یہ کہا کہ ہمیں یہ بولا گیا کہ پیپلزپارٹی کو حکومت دے دو تو 6 ماہ میں ختم کردیں گے کیونکہ ظاہر ہے 2 سال میں آنے سے پہلے تو کراچی میں کبھی لوڈ شیڈنگ ہوئی ہی نہیں تھی

مجھے آج بھی یاد ہے کہ کراچی میں کوئی 12 سے 14 گھنٹے سے بجلی گئی ہوئی تھی، ساری رات ہم سو نہیں پارہے تھے، صبح تک جاگے ہوئے تھے کہ ‘بھٹو صاحب’ پتہ نہیں کیا کر رہے ہیں، یہ کیسے ملک چلا رہے ہیں، ہم تو لوڈ شیڈنگ سے مر گئے ہیں اور جب صبح اٹھے تو پتہ چلا ان کی حکومت چلی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ تو پاکستان میں 45 سال سے لوڈشیڈنگ کر رہے ہیں۔
کے الیکٹرک پر اٹھائے گئے سوالات سے متعلق انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ بتایا گیا کہ وہ لوگ ڈیووس جاتے ہیں کیونکہ ان کی باتوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے کے الیکٹرک کی نجکاری تحریک انصاف کی حکومت نے کی ہو۔
کے الیکٹرک کی نجکاری پاکستان مسلم لیگ (ق) کی حکومت میں کی گئی، اس کے بعد 5 سال پیپلزپارٹی کی حکومت رہی اور یہاں راجا پرویز اشرف موجود ہیں وہ بتائیں کہ اتنی مجرمانہ تنظیم نے جب کے الیکٹرک کو خریدا ہوا تھا تو انہوں نے اسے کیوں نہیں پکڑا۔
اپنے اظہار خیال میں ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 5 سال پورے کیے اور ان کے دور کے وزیر بجلی خواجہ آصف بھی یہاں موجود ہیں اور ان سے بھی یہی سوال پوچھیں گے کہ اپوزیشن اراکین جب پوچھ رہے ہیں کہ کے الیکٹرک کا مالک بہت بڑا مجرم ہے تو ان دونوں نے 5، 5 سال میں اس پر کیوں ایکشن نہیں لیا۔
لوڈشیڈنگ کی وجوہات بتاتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کراچی کے اندر بجلی کی ضرورت بڑھتی گئی لیکن پاکستان میں موجود حکومتوں نے کوئی قدم نہیں اٹھایا یا کراچی میں بجلی کی پیداوار بڑھائی جاتی یا باقی پاکستان سے سسٹم حاصل کرسکتے۔
انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں بجلی کے پیداواری نظام بڑھتے چلے گئے لیکن کراچی ان کارخانوں سے بجلی نہیں لے سکتا کیونکہ کراچی میں بجلی کی ترسیل اور منتقلی کے نظام میں جو تبدیلی لانی تھی وہ نہیں لائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

سال 2020 کی تیسری قومی انسداد پولیو مہم کا آغاز آج سے ہوگیا

اسلام آباد: سربراہ نیشنل ایمرجنسی آپریشنل سینٹر فار پولیو (این ای او سی) ڈاکٹر صفدر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے