پنجاب حکومت نے عدالتوں میں تماشا لگا رکھا ہے

پنجاب حکومت نے عدالتوں میں تماشا لگا رکھا ہے

لاہور:چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ میں جسٹس محمد قاسم خان کی سربراہی میں عالت عالیہ کے فاضل بینچ نے پنجاب حکومت کی جانب سے صوبے کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو عدالتی اختیارات دینے سے متعلق کیس پر سماعت

درخواست گزار کا موقف تھا کہ آئین کے تحت عدلیہ اور انتظامیہ کے اپنے علیحدہ علیحدہ اختیارات ہیں لیکن پنجاب حکومت نے نوٹی فکیشن کے ذریعے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات دے دیئے ہیں، پنجاب حکومت کا اختیارات دینے کا نوٹی فکیشن آئین کے آرٹیکل 2 (a)اور آرٹیکل 9 کی خلاف ورزی ہے، اس لئے ہائی کورٹ پنجاب حکومت کا عدالتی اختیارات سے متعلق 17 جون کا نوٹی فکیشن کالعدم قرار دے۔
دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنر کو عدالتی اختیارات دینے پر پنجاب حکومت پر برہم ہوگئے، انہوں نے ریمارکس دیئے کہ پنجاب حکومت نے عدالتوں میں تماشا لگا رکھا ہے، حکومت نے تمام سسٹم کا بیڑا غرق کر دیا ہے پنجاب حکومت کو عدالتی اختیارات کا بہت شوق ہے، جن اتھارٹیز نے نوٹی فکیشن جاری اور منظور کیا ان کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کریں گے اور نوٹیفکیشن کالعدم ہوا تو وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کروں گا۔ لاہورہائی کورٹ نے پنجاب حکومت کا نوٹیفکیشن معطل کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

یہ بھی پڑھیں

ہائی کورٹ نے ننکانہ کی سکھ لڑکی سے مسلمان لڑکے حسن کی شادی کو جائز قرار

ہائی کورٹ نے ننکانہ کی سکھ لڑکی سے مسلمان لڑکے حسن کی شادی کو جائز قرار

لاہور: ننکانہ میں سکھ لڑکی سے شادی کرنے والے لڑکے حسن کی جانب سے عدالت …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے