غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی کو حمتی رپورٹ 17 اگست تک جمع کروانے ہدایت

غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ پڑتال کرنے والی کمیٹی کو حمتی رپورٹ 17 اگست تک جمع کروانے ہدایت

اسلام آباد: کہا گیا کہ ’17 اگست کو کمیٹی کی رپورٹ جمع ہونے کے بعد الیکشن کمیشن فریقین کی جانب سے جمع کروائے گئے تمام ریکارڈ اور کمیٹی کی جناب سے فریقین اور ان کے وکلا کی معاونت سے اسٹیٹ بینک پاکستان سے حاصل کیے گئے ریکارڈ کو دیکھنے کے بعد اس مسئلے کا فیصلہ کرے گا‘

حکم نامے میں مزید کہا گیا کہ ’ایک معتبر نتیجے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقین کو الیکشن کمیشن کی معاونت کے لیے مکمل موقع دیا جائے گا‘۔
الیکشن کمشین نے اسکروٹنی کمیٹی کو ہدایت کی کہ ’فریقین کی جمع کروائی گئی درخواستوں کو فیصلے کے لیے الیکشن کمیشن بھجوانے کے بجائے ممکنہ طور پر کم سے کم وقت میں اپنی حتمی رپورٹ کمیشن میں جمع کروائیں‘ کیوں کہ ’صورتحال تاخیر کا باعث ہے‘۔
درخواست گزار اکبر ایس بابر نے کمیٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کی جمع کروائی گئی دستاویزات اور اسٹیٹ بینک پاکستان سے حاصل کردہ بینک اسٹیٹمنٹس انہیں فراہم کرنے سے انکار پر متعدد اعتراضات اٹھائے تھے۔
ایک درخواست میں شکایت کی کہ اسکروٹنی کمیٹی نے پی ٹی آئی کے فنڈ اور پاکستان بھیجی گئیں ترسیلات زر، پی ٹی ٓئی کے بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس اور ایک نجی بینک میں پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں موصول ہونے والی رقم کی تفصیلات حاصل کرنے کی کوشش نہیں دکھائی‘۔
اکبر ایس بابر کا مزید کہنا تھا کہ وہ پارٹی کے بانی رکن ہیں اور ’قانون کے تحت پارٹی کے اکاؤنٹس تک رسائی کا حق رکھتے ہیں لیکن کمیشن نے انہیں قانونی رسائی دینے سے انکار کریا اور اس لیے درخواست گزار اسکروٹنی کے دھوکے کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔
درخواست گزار نے کمیشن سے استدعا کی تھی کہ تمام ریکارڈ منگوا کر خود اسکروٹنی کرے یا اسکروٹنی کمیٹی کو ہدایت کرے کہ ای سی پی کے حکم کی تاریخ سے 20 ہفتے کے اندر اپنی حقائق تلاشی کی رپورٹ جمع کروائے۔
ای سی پی اسکروٹنی کمیٹی نے بدھ کو بھی ایک اجلاس کیا لیکن اس میں معمولی سی پیشرفت ہوئی کیوں کہ اس کے اراکین حال ہی میں ریٹائر ہوگئے ہیں اور ان کے متبادل کا ابھی تک نوٹفکیشن نہیں تھا تاہم کمیٹی کا آئندہ اجلاس 15 جولائی کو ہوگا۔
پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس نومبر 2014 سے زیر التوا ہے جو اس پارٹی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے دائر کیا تھا۔
کیس میں الزام لگایا گیا تھا کہ غیر قانونی غیر ملکی فنڈز میں تقریباً 30 لاکھ ڈالر 2 آف شور کمپنیوں کے ذریعے اکٹھے کیے گئے اور یہ رقم غیر قانونی طریقے ‘ہنڈی’ کے ذریعے مشرق وسطیٰ سے پی ٹی آئی ملازمین کے اکاؤنٹس میں بھیجی گئی۔
جو فنڈز بیرونِ ملک موجود اکاؤنٹس حاصل کرتے تھے، اسے الیکشن کمیشن میں جمع کروائی گئی سالانہ آڈٹ رپورٹ میں پوشیدہ رکھا گیا۔
ایک سال سے زائد عرصے تک اس کیس کی سماعت ای سی پی میں تاخیر کا شکار رہی تھی کیونکہ پی ٹی آئی کی جانب سے اکتوبر 2015 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی کہ اس کے اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال سے ای سی پی کو روکا جائے۔

یہ بھی پڑھیں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ کرنے والے افسران کی نشاندہی کریں

اسلام آباد: چار سال سے لاپتہ آئی ٹی انجئنیر ساجد محمود کی بازیابی کے لیے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے