ایل پی جی ٹینکر حادثے کے متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

ایل پی جی ٹینکر حادثے کے متاثرہ افراد کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

اسلام آباد: شاہدرہ موڑ کے قریب ٹینکر الٹنے اور اس سے ایل پی جی کے اخراج کے سبب زبردست آگ لگی جس کے بعد ایک پیٹرول پمپ پر دھماکا بھی ہوا تھا جس میں ایک شخص ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے تھے اور اس کے علاوہ 200 گاڑیاں جل گئی تھیں

اوگرا کے ترجمان نے پریس ریلیز میں کہا کہ جانی و مالی املاک کے اصل نقصان کے بارے میں باضابطہ طور پر ریگولیٹر کو علم نہیں۔
اس افسوسناک واقعے سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے پنجاب کے چیف سیکریٹری کو 5 مرتبہ یاد دہانی کرائی گئیں اور آخری 2 جولائی کو ان سے تفصیلات طلب کی گئی تھیں۔
اس طرح کی تفصیلات کی عدم موجودگی میں ریگولیٹر نے ایل پی جی ٹینکر حادثے میں ملوث کمپنیوں پر جرمانہ عائد کیا اور انہیں واقعے میں اپنی جان، مال اور گاڑیاں کا نقصان کرنے والوں کو معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی۔حادثہ شاہدرہ مورڑ پر پیٹرول پمپ کے قریب ایل پی جی ٹینکر کے الٹنے کے بعد ہوا سامنے آیا تھا جس کے نتیجے میں اس کے ٹینک سے بڑے پیمانے پر گیس کا اخراج ہوا تھا۔
اخراج ہونے والی گیس پیٹرول پمپ، جو سی این جی بھی فروخت کررہا تھا ، میں بھاری مقدار میں جمع ہوگئی تھی اس لیے وہاں آگ بھڑک اٹھی جس کے بعد دھماکا ہوا تھا جس کا اثر مبینہ طور پر اتنا شدید تھا کہ 200 گاڑیاں جل گئیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ متاثرہ گاڑیوں میں 4 بسیں، 6 کوسٹر، 9 کاریں، 15 رکشہ، 80 موٹرسائیکل رکشہ، 3 ٹرک اور 70 موٹر سائیکل شامل ہیں۔
اوگرا نے اپنے ریگولیٹری اجلاس میں محکمہ ایل پی جی کی جانب سے جمع کرائی گئی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا جائزہ لیا اور رانا اینڈ کمپنی، اینگرو وی او پی کے ٹرمینل لمیٹڈ اور ہیولٹ گیس لمیٹڈ کو ایل پی جی (پیداوار و تقسیم) رولز 2001 کے رول 27 (2) کے تحت متاثرہ فریقوں کو (مساوی بنیادوں پر) معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کی۔
اوگرا نے ہر ہلاک ہونے والے فرد کے لواحقین کو 10 لاکھ روپے، زخمیوں کو 5، 5 لاکھ روپے، ہر رکشہ یا چنگچی کے لیے ایک لاکھ روپے اور تباہ شدہ موٹر سائیکل کے لیے 50 ہزار روپے معاوضہ ادا کرنے یا کسی دوسرے نقصان کا تعین کرنے یا اس کو صوبائی حکام کے مطلع کرنے کا حکم دیا۔
ان میں سے ہر کمپنی کو ان کے لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی پر ایل پی جی رولز 2001 کے ضابطہ 29 کے تحت اور ایل پی جی (پیداوار اور تقسیم) قواعد 2001 کے تحت 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

نواز شریف کے اے پی سی سے خطاب کو روکنے لیے قانونی طریقہ کار پر غور

اسلام آباد: اب اس معاملے پر وفاقی حکومت بھی میدان میں آ گئی ہے اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے