امریکا قاسم سلیمانی کے قافلے پر کارروائی کا جواز پیش کرنے مناسب ثبوت فراہم کرنے میں ناکام

امریکا قاسم سلیمانی کے قافلے پر کارروائی کا جواز پیش کرنے مناسب ثبوت فراہم کرنے میں ناکام

اقوام متحدہ: کالمارڈ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ اس حملے میں اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی گئی اور مسلح ڈرونوں کے ذریعے ہونے والی ٹارگٹ کلنگ اور اسلحے کے لیے ضوابط طے کرنے کے لیے احتساب کا مطالبہ کیا ہے

آزاد تفتیش کار کالمارڈ نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ڈرون کے استعمال کی بات کی جاتی ہے تو دنیا ایک نازک وقت مقام پر ہے۔ سلامتی کونسل عملی طور پر موجود نہیں، عالمی برادری کی اپنی مرضی تھی یا نہیں لیکن یہ بڑی حد تک خاموش ہے۔
کالمارڈ جمعرات کو ہیومن رائٹس کونسل کے سامنے اپنی گزارشات پیش کرنے والی ہیں جس سے ممبر ممالک کو اس بات پر تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملے گا کہ وہ کیا کارروائی کرے گی،امریکا اس فورم کا رکن نہیں ہے اور اس نے دو سال پہلے ہی استعفیٰ دیا تھا۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سللیمانی امریکی افواج کو عراق سے بے دخل کرنے کی ایرانی کی مہم کو آگے بڑھانے والی سرکردہ شخصیت تھے اور مشرق وسطیٰ میں ایران کی پراکسی افواج کا جال بچھایا تھا، واشنگٹن نے الزام عائد کیا تھا کہ سلیمانی خطے میں امریکی افواج پر ایرانی اتحاد کے حامی ملیشیاؤں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
کالمارڈ نے مزید کہا کہ میجر جنرل سلیمانی ایران کی فوجی حکمت عملی کے انچارج تھے اور شام اور عراق میں اقدامات کے انچارج تھے لیکن جان کے خطرے کی موجودگی میں امریکا کی جانب سے کی جانے والی کارروائی غیر قانونی تھی۔
انہوں نے مزید کہا کہ 3 جنوری کا ڈرون حملہ پہلا واقعہ تھا جس میں کسی قوم نے اپنے دفاع کو حملے جواز کے طور پر پیش کرتے ہوئے کسی تیسرے ملک کی حدود میں حملہ کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں

کینیڈا نے پاکستان کو اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم میں شامل کر رکھا ہے

کینیڈا نے پاکستان کو اسٹوڈنٹ ڈائریکٹ اسٹریم میں شامل کر رکھا ہے

اوٹاوا: پاکستان ہائی کمشنر رضا بشیر تارڑ نے کینیڈین ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے