بشار الاسد کی موجودگی میں مستحکم اور پرامن شام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، امریکا

واشنگٹن ڈی سی: وائٹ ہاؤس کے ترجمان شون اسپائسر کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کی موجودگی میں ایک مستحکم اور پرامن شام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس شون اسپائسر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ شام میں مزید کیمیائی حملوں کی صورت میں امریکا بھرپور جواب دے گا۔ بشار الاسد کی موجودگی میں ایک مستحکم اور پرامن شام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور شام کے محفوظ مستقبل کی جانب ایسی کوئی راہ نہیں جاتی جس میں بشارالاسد کی گنجائش نکلتی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی پہلی ترجیح شام میں داعش کے جنگجوؤں کو شکست دینا اور پھر وہاں قیادت کی تبدیلی کے لیے سازگار ماحول بنانا ہے۔ امریکا اس لیے بھی شام کے بحران کا فوری حل چاہتا ہے تاکہ جنگ سے پریشان شام کے شہریوں کو محفوظ مقامات کی تلاش میں دربدر نہ بھٹکنا پڑے اور وہ اپنے ہی ملک میں سکون سے رہ سکیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں فوجی کارروائی کی حمایت کیلئے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اور جرمن چانسلر اینجلا مرکل سے بھی رابطہ کیا ہے جس کے جواب میں دونوں خواتین سربراہان نے امریکا کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع جیمس میٹس نے امریکی میزائل حملے میں بشارالاسد حکومت کے فوجی ہوائی اڈے پر موجود بیس فیصد جنگی طیارے تباہ کرنے دعویٰ کیا ہے۔ جیمس میٹس کا کہنا ہے کہ کیمیائی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنے شامی ہم منصب بشارالاسد کو امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دینے پر زور دیا ہے۔ حسن روحانی نے کہا کہ امریکا کو فوجی کارروائی کی قیمت چکانا پڑے گی۔ روسی حمایت حاصل کرنے اور بشارالاسد سے لاتعلقی کا مطالبہ لے کر امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کل روس کے دورے پر بھی جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں

ملائیشیا میں ہندوﺅں کو بھارت کی مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں

ملائیشیا میں ہندوﺅں کو بھارت کی مسلمان اقلیت کے مقابلے 100 گنا زیادہ حقوق حاصل ہیں

کوالالمپور: ذاکر نائیک گزشتہ 3 سالوں سے ملائیشیا میں رہائش پذیر ہیں جبکہ بھارت میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے